ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 757 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 757

سليشيا 757 بھرنے لگیں تو کلکیر یا فلور کی طرح سلیشیا بھی دوا ہو سکتی ہے۔اکثر ہومیو پیتھک کتابوں میں گلے کی اچانک خرابی کے علاج کے سلسلہ میں سلیشیا کا ذکر نہیں ملتا بلکہ یہ گلے کی مستقل اور مزمن بیماریوں میں مفید بتلائی جاتی ہے۔یہ بات درست نہیں ہے۔گلے کے غدود میں تعفن کی وجہ سے بخار ہوتو صرف سلیشیا دینے سے ہی فوری آرام آ سکتا ہے۔اس کے ساتھ کالی میور، فیرم فاس اور کلکیر یا فلور 6x دیں تو بخار اللہ کے فضل سے بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔بعض ایسے مریضوں کا اس علاج سے اگر پہلے دن ہی بخار نہ ٹوٹے تو دو تین دن کے اندر رفتہ رفتہ ختم ہو جاتا ہے۔سلیشیا کے مریض کو سردی لگنے کے باوجود سخت ٹھنڈے پانی کی پیاس محسوس ہوتی ہے اور وہ برف کھانا چاہتا ہے یا مشروبات میں برف ڈال کر پیتا ہے۔سلیشیا کے بارے میں ایک علامت اکثر کتب میں لکھی ہوئی ہے کہ اس کے مریض کو گوشت سے نفرت ہو جاتی ہے۔اگر مریض پسند بھی کرے تو صرف ٹھنڈا گوشت پسند کرتا ہے۔میرا وسیع تجربہ اس کے خلاف گواہی دیتا ہے۔بکثرت سلیشیا سے فائدہ اٹھانے والے مریضوں میں گوشت سے نفرت کی عادت موجود نہیں ہوتی۔مزمن اسہال کی بیماری میں بھی سلیشیا بہت مفید ہے۔تپ دق کے اثرات کی وجہ سے بھی اسہال مزمن صورت اختیار کر لیتے ہیں یا پھر اگر خوراک گندی اور مضر صحت ہو جیسا کہ مہاجر کیمپوں وغیرہ میں ہو جاتی ہے تو اسہال کی بیماری مستقل ہو جاتی ہے یا پیچش مزمن شکل اختیار کر لیتی ہے۔ایسی بیماریوں میں سلفر اور کروٹن کے علاوہ سلیشیا بھی دوا ہوسکتی ہے بشرطیکہ مریض کا جسم ٹھنڈا رہتا ہو۔ایک عالمی جنگ میں اسہال کی بیماری بہت پھیلی تھی۔ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر سلیشیا کا استعمال شروع کیا تو ہر جگہ اس سے فائدہ ہوا لیکن ایک اور موقع پر سلیشیا سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ خاص موسم اور خاص و با وغیرہ میں علامتیں بدل جاتی ہیں اور دوسری دواؤں کی ضرورت پڑتی ہے۔سلیشیا کی بعض علامتیں کالی کا رب سے ملتی ہیں۔دونوں ٹھنڈے مزاج کی دوائیں