ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 756
سليشيا 756 مزمن ایگزیموں میں بہت نمایاں فرق پڑتا ہے۔یہ دوائیں ایک ہزار طاقت میں باری باری دہرانی چاہئیں۔سورائس کے بعض پرانے مریضوں کو بھی سورا ئینم ، سلفر ، سلیشیا اور گریفائیٹس باری باری دینے پڑتے ہیں کیونکہ یہ مرض بہت گہرا ہے اور صرف ایک دو دواؤں 6 کے قابو میں نہیں آتا۔بعض دفعہ بچوں کے چہرے پر خون کی غدود میں ابھر آتی ہیں ، کچی کچھی جلد اور خون کے چھالے سے بن جاتے ہیں۔اگر وہ ٹھنڈے مریض ہوں تو اللہ کے فضل سے سلیشیا سے بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ورنہ فیرم مٹیلیکم (Ferrum Metallicum) اس مرض کی اولین دوا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ یہ بعض پیدائشی خون کے ابھاروں میں بھی مفید ثابت ہوئی ہے۔سیجیا گلینڈ ز کی زیادہ خطرناک اور گہری بیماریوں میں کام آتی ہے۔سخت غدودوں کو چھوٹا اور نرم کرنے میں سلیشیا ایک اہم دوا ہے۔کلکیر یا فلور، برائیٹا کا رب، فائیٹولا کا اور کاسٹیکم بھی مفید ہیں۔لیکن اگر جبڑوں ، گردن اور بغلوں کے غدود تیزی سے سخت اور بہت بڑے ہونے شروع ہو جائیں اور مریض ٹھنڈا ہو تو سلیشیا استعمال کرنی چاہئے لیکن اگر اس کے با وجود افاقہ نہ ہو تو احتمال ہے کہ وہ کینسر ہو۔اس صورت میں اکیلی سلیشیا فائدہ نہیں دے گی بلکہ سلفر CM دینی چاہئے۔جب اس کے استعمال سے مریض ٹھنڈ محسوس کرنے لگے تو پھر سلیشیا CM ایک خوراک دینی پڑے گی۔جب تک سردی گرمی کی علامتیں تبدیل نہ ہوں اس وقت تک ان کو ادل بدل کر دینا مناسب نہیں۔سلیشیا آنکھوں کی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔کورنیا کے السر میں بھی جو علاج کے لحاظ سے ایک مشکل مرض ہے سلیشیا بالمثل ہو تو غیر معمولی فائدہ دیتی ہے۔(دیگر مشابہ دواؤں سے موازنہ کے لئے دیکھئے کلکیر یا فلور) نزلاتی مادہ کی وجہ سے اگر کان میں شور ہو تو یہ علامت بہت سی دواؤں میں مشترک ہے۔سلیشیا اسی وقت کام آئے گی جب یہ مزاجی دوا ہو۔اگر دانتوں کے کنارے