ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 659
فاسفورس 659 فاسفورس کی ایک علامت یہ ہے کہ گلے میں السر کی وجہ سے آواز بیٹھ جاتی ہے جو کینسر کی بھی علامت ہے۔اس لئے اگر کسی کی آواز بیٹھ رہی ہو اور گلے میں السر ہو جائے تو پوری احتیاط سے جائزہ لے کر فوراً اس کا علاج شروع کر دینا چاہئے ورنہ اگر دیر ہو جائے تو گلے کا کینسر خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے اور پھر قابو میں نہیں آتا۔بعض دفعہ عضلات ڈھیلے ہو کر لٹک جاتے ہیں، حفاظتی جھلیاں کمزور ہو جاتی ہیں مثلاً بچوں کی پیدائش کے بعد رحم ڈھیلا ہو کر لٹکنے لگتا ہے۔اسی طرح ہر نیا وغیرہ کی تکلیفیں لاحق ہر ہوتی ہیں۔فاسفورس اعضاء کو واپس اپنی جگہ لے جانے اور عضلات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔فاسفورس میں ایک علامت رسٹاکس اور برائیونیا سے مشابہ ہے۔ابتدائی حرکت تکلیف دیتی ہے اور پھر آرام محسوس ہوتا ہے۔رسٹاکس میں لیٹنے سے تکلیف بڑھتی ہے لیکن حرکت کی ابتدا میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔کروٹ بدلتے ہوئے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے پھر ذرا سا سکون ملتا ہے پھر تکلیف بڑھ جاتی ہے اور مریض بے چین دکھائی دیتا ہے۔برائیونیا میں حرکت سے تکلیف کا بڑھنا بہت نمایاں ہے اسی لئے ہو میو پیتھی میں اگر برا ئیونیا 200 آرنیکا 200 کے ساتھ ملا کر دی جائے تو ہر قسم کی ورزش سے پیدا ہونے والی تھکاوٹ کا بہترین علاج ثابت ہوتی ہے۔فاسفورس میں خصوصاً صبح کے وقت مریض جب اٹھ کر چلتا ہے تو اعضاء بھاری محسوس ہوتے ہیں۔جوڑوں میں عمومی اکڑاؤ کے لئے بھی فاسفورس اچھی دوا ہے۔میں نے اس + تکلیف کے لئے دو نسخے بنائے ہیں۔اگر بائیں طرف تکلیف ہو تو آرنیکا + لیڈیم 200 طاقت میں بہت مؤثر ہے۔یہ لمبے، گہرے وجع المفاصل کے مزمن مریض کو بار بار دی جاسکتی ہے یعنی 200 طاقت میں ہونے کے باوجود پہلے ہفتے دن میں تین دفعہ، دوسرے ہفتے دن میں دو دفعہ اور تیسرے ہفتے دن میں ایک دفعہ، چوتھے ہفتے تک جب اجتماعی اثر ظاہر ہو جاتا ہے تو مریض محسوس کرتا ہے کہ گویا یکدم فائدہ ہوا ہے اور اس عارضہ سے پوری طرح نجات مل جاتی ہے۔دوسرا نسخہ اس وقت کام آتا ہے جب