ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 660
فاسفورس 660 دردوں کا زور دائیں طرف ہو اور چوٹوں کا بھی اثر ہو اور حرکت اور مالش سے تکلیف بڑھتی ہو۔ایسی صورت میں آرنیکا، برائیونیا اور کاسٹیکم 200 طاقت میں بہت اچھا اثر دکھاتی ہیں۔گھٹنے کے درد اور کھلاڑیوں کی پرانی چوٹوں کے جاگ اٹھنے کے نتیجہ میں تکلیف بڑھے تو یہ نسخہ بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔چہرہ کے اعصابی دردوں میں فاسفورس بہترین دوا ہے۔علاوہ ازیں حسب ذیل دوا ئیں مختلف اجتماعی نسخوں کی شکل میں اچھا کام کرتی ہیں۔سپائی جیلیا ، سلیشیا ، فاسفورس اور میگ فاس۔فاسفورس کو سپائی جیلیا کے ساتھ ملا کر دیا جائے تو یہ چہرے کے بائیں طرف کے نور يلجيا (Neuralgia) کا اچھا نسخہ ثابت ہوتا ہے۔اگر نوریلجیا دائیں طرف ہو تو اس میں سلیشیا ، میگ فاس کے ساتھ ملا کر دینا بہت مفید ثابت ہوتا ہے اور فاسفورس کو اس نسخہ میں بھی ملایا جاسکتا ہے۔عورتیں یا مرد اعصاب کی زود حسی کی وجہ سے اولاد سے محروم ہوں تو کالی فاس اور فاسفورس مفید ثابت ہوتی ہیں۔اعصاب کی زود حسی براہ راست با نجھ نہیں بناتی لیکن خلیوں میں بننے والے جرثوموں کی تکمیل نہیں ہو پاتی اور ان میں جان نہیں پڑتی۔فاسفورس میں خالی پیٹ تکلیفیں بڑھتی ہیں۔اس کے مسوں میں خون بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ تو کٹی پھٹی خوفناک شکل اختیار کر لیتے ہیں جو نائیٹرک ایسڈ کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔مگر ان مسوں سے سرخ خون بہے تو یہ اکثر فاسفورس کی علامت ہوتی ہے۔سب زخموں سے بہت خون بہتا ہے۔زخم خشک ہو کر پھر ہرے ہو جاتے ہیں۔جلد پر نیلگوں کالے داغ پڑ جاتے ہیں۔یرقان بھی ہو جاتا ہے۔شام کو سردی محسوس ہونے لگتی ہیں۔بائیں طرف لیٹنے سے دل کی دھڑکن بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔نبض تیز اور چھوٹی ہو جاتی ہے۔دل میں گرمی محسوس ہوتی ہے۔کھانے کے فوراًبعد دوبارہ بھوک محسوس ہوتی ہے۔کھانے کے بعد منہ کا مزہ کھٹا ہو جاتا ہے۔قے کا رجحان ہوتا ہے۔پیٹ میں درد جسے ٹھنڈی چیزوں کے استعمال سے آرام آتا ہے۔معدہ میں سوزش، چلنے اور پیٹ پر ہاتھ لگانے سے بڑھ جاتی ہے۔