ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 658
فاسفورس 658 بے تحاشا پھوٹنے کے باعث طبیعت بے حد خراب تھی۔مجھے آدھی رات کو بلایا گیا۔میں وہاں گیا تو دیکھا کہ فرش خون سے بھرا ہوا ہے۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہاں بکرا ذبح کر دیا گیا ہو۔ان کے منہ سے بھی خون جاری تھا۔میں نے خون والے منہ میں ہی فاسفورس اور ملی فولیم ملا کر ڈال دی۔15 منٹ کے اندر اندر خون آنا بند ہو گیا اور وہ آرام سے سو گئے اور خدا کے فضل سے انہیں مکمل صحت ہو گئی۔اگر زخموں سے معمول سے زیادہ سرخ رنگ کا خون جاری ہو جائے تو فاسفورس سے بہت جلد فائدہ ہوتا ہے۔ٹھنڈک سے آرام آتا ہے اور ٹھنڈے پانی کی ٹکور سے خون بند ہو جاتا ہے۔سر میں دورانِ خون بڑھنے سے درد ہو تو خطرہ ہوتا ہے کہ شریانیں پھٹ جائیں گی۔ایسی حالت میں سر کو ٹھنڈا کرنے سے فائدہ ہوگا لیکن فاسفورس سے اس رجحان کا مستقل علاج ضروری ہے۔مثانے اور غدہ قدامیہ ( پراسٹیٹ) کے کینسر میں فاسفورس غیر معمولی اہمیت کی دوا ہے۔ہڈیوں کے کینسر میں بھی فاسفورس بار ہا شافی ثابت ہوئی ہے۔ایک مریض کو جس کا ہر قسم کا ریڈی ایشن (Radiation) کا علاج ہو چکا تھا، جب اسے فاسفورس 30 دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ ایک ماہ کے بعد اپنی کیفیت سے آگاہ کرے تو ایک ماہ کے بعد اس نے بتایا کہ اس کا وزن گرنا بند ہو گیا ہے اور بھوک پیاس محسوس ہونے لگی ہے۔اس مریض کی ہڈیاں اتنی کمزور ہوگئی تھیں کہ چل نہیں سکتا تھا اور دباؤ بالکل برداشت نہیں کر سکتا تھا۔بیساکھیاں استعمال کرتا تھا۔تین ماہ کے اندر اندر بیساکھیاں چھوٹ گئیں اور کمزوری جاتی رہی۔آٹھ دس سال بالکل ٹھیک رہا۔اس کے بعد دماغ کا کینسر ہو گیا۔اس سے بھی خدا کے فضل سے صحت یاب ہو گیا اور مزید پندرہ سال زندگی پائی۔کینسر کی یہ عادت ہے کہ بار بار عود کر آتا ہے اس لئے اس کا مستقل علاج جاری رہنا چاہئے۔فاسفورس کا استعمال بہت احتیاط سے کرنا چاہئے کیونکہ یہ بہت گہرا اثر کرنے والی دوا ہے۔زیادہ اونچی طاقت میں استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔یہ جگر، ہڈیوں ، ہڈیوں کے گودے (Bone Marrow) اور غدودوں کے کینسر پر اثر انداز ہوتی ہے۔گلے ، ہڈیوں اور مثانے وغیرہ کے کینسر میں اسے ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔