ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 592
مرکزی 592 اندرونی جھلیوں اور اعصابی ریشوں کو متاثر کر کے ہڈیوں میں اتر جاتا ہے اور پھر دماغ پر بھی حملہ کرتا ہے۔زمانہ قدیم میں ایلو پیتھک ڈاکٹر مرکزی سے براہ راست آتشک کا علاج کرتے تھے جس سے عارضی فائدہ اور دائمی نقصان پہنچتا تھا اور آ تشک دب کر نظام تولید کے ذریعہ آئندہ نسلوں میں منتقل ہونے لگتی تھی۔علاوہ ازیں پرانے اطباء بھی مرکزی کو مختلف بیماریوں کے علاج میں بے دھڑک استعمال کرتے تھے۔مرکزی کا بے جا اور زیادہ مقدار میں استعمال آتشک کی علامتیں پیدا کر دیتا ہے۔مرکزی اعصاب کے خلیوں کو کھا جاتا ہے اور ناک کی ہڈیاں اور انگلیاں وغیرہ گلنے سڑنے لگتی ہیں۔کوڑھ کی علامات بھی ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ اس کا ہومیو پیتھک استعمال شفا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔مرکزی کی عام حالات جو ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کے زیادہ زبان زدعام ہیں ان میں منہ سے رال کا بہنا، بہت پسینہ آنا، گلے کی خرابی اور خوفناک بد بو وغیرہ ہیں۔مرکزی کا مریض ہمیشہ متعفن ہوتا ہے اس سے ایسی خطرناک اور تیز بو آتی ہے کہ اس کا بیان کرنا بہت مشکل کام ہے، صرف تجر بہ سے ہی معلوم کیا جاسکتا ہے۔اگر مرکزی کا صحیح استعمال کیا جائے تو اس کی بیماریاں اندر سے اچھل کر باہر جلد پر نمودار ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات شدید خارش اور رسنے والے زخم اور ناسور پیدا ہو جاتے ہیں جن کی سطح سفیدی مائل ہوتی ہے۔عموماً جلد پر سفید رنگ کے چٹاخ بن جاتے ہیں۔ایک دفعہ میرے پاس ایک ایسا مریض آیا جس کی رانوں کے اردگرد نہایت گہرے اور تکلیف دہ سفید رنگ کے ناسور تھے۔کسی دوا سے آرام نہ آ رہا تھا۔میں نے اسے مرکزی استعمال کروائی۔اللہ کے فضل سے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔مرکزی کی ایک علامت یہ ہے کہ جسم پر سفید رنگ کے چٹاخ پڑ جاتے ہیں جو پھلبہری کی طرح ہوتے ہیں لیکن پھلبہری نہیں ہوتے اور پھلبہری کی طرح بڑھتے اور پھیلتے نہیں ہیں۔اگر مرکزی کی مزاجی علامتیں ملتی ہوں تو بعض دفعہ یہ پ پھلبہری کی بھی بہت مؤثر دوا ثابت ہوتی ہے۔ایک مریض کا سارا جسم پھلبہری کے داغوں سے بھر گیا تھا۔اس میں چونکہ مرکزی کی دوسری علامات موجود تھیں میں نے ایک ہزار کی طاقت میں مرکزی