ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 593
مرکزی 593 استعمال کروائی۔ایک ہفتہ میں اتنا نمایاں فرق پڑا کہ جب وہ مجھے ملنے آیا تو میں اسے پہچان بھی نہ سکا، سب داغ غائب ہو گئے اور دوبارہ کبھی اسے یہ مرض نہیں ہوا۔جب مرکزی جلد پر اثر دکھاتی ہے تو اندرونی طور پر غدودوں پر کوئی بداثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن جب غدودوں پر اثر کرتی ہے تو جلد پر ضرور کوئی بیماری ظاہر ہوتی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ غدودوں کو ٹھیک کر کے بیماری کو باہر دھکیلا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کے بانی جن کو جماعت احمد یہ تمثیلی طور پر پہلے مسیح کا ثانی یقین کرتی ہے، انہوں نے اپنے وقت میں ایک ایسا اہم انکشاف فرمایا جس سے ہومیو پیتھک طبیبوں کا ہومیو پیتھی پر ایمان بڑھ جانا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے روحانی ذریعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اگر غدودوں کی بیماریوں کو کسی دوا سے جلد کی طرف دھکیل دیا جائے تو غدودوں کو بعض انتہائی خطرناک بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے۔ان دواؤں کی مثال دیتے ہوئے آپ نے مرکزی اور سلفر کا ذکر کیا ہے اور ہو میو پیتھی میں بھی یہی دو دوائیں ہیں جو اس مقصد کے لئے بکثرت استعمال کی جاتی ہیں۔آپ نے مزید لکھا کہ میرے دل میں بے حد جوش پایا جاتا ہے کہ میں اس راز کو کھول کھول کر سب دنیا کے سامنے بیان کروں کیونکہ اس میں بہت سے شفا کے راز مضمر ہیں۔ہڈیوں کی دردیں جو مستقل بیماری کی شکل اختیار کر لیں ان میں مرکری مفید ہے لیکن اس کی پہچان یہ ہے کہ ان ہڈیوں میں جہاں جلد اور ہڈی کے درمیان گوشت کی زیادہ تہیں نہ ہوں وہاں در دیں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں یعنی جلد سے چھٹی ہوئی ہڈیوں میں درد کا احساس ہوتا ہے۔غدودوں اور ہڈیوں میں اگر نا سور مزمن ہو جائیں تو مرکری کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔مرکزی کی خاص علامت یہ ہے کہ جوڑوں میں درد کے ساتھ پیپ بنے کا رجحان بھی ہوتا ہے۔چونکہ مرکزی کے مریض کا مزاج آتشک کے مریض کے مشابہ ہوتا ہے اس لئے ہڈیوں میں ناسور اور سوزش کے علاوہ پیپ بھی بنتی ہے۔ڈاکٹر عموماً اس پیپ کو پچکاری کے ذریعہ باہر نکالتے ہیں۔اگر مرکری کو چھوٹی طاقت میں شروع کر کے آہستہ آہستہ طاقت بڑھائی جائے تو بہت مفید نتائج ظاہر ہوں گے۔ایک دم شروع میں اونچی طاقت