ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 513
کالی فاس 513 حمل ضائع ہونے میں اگر اعصاب ذمہ دار ہوں تو اس کا گہرا تعلق کالی فاس سے ہے جن عورتوں میں یہ رجحان ہو تو ان کو بغیر حمل کے بھی کالی فاس1000 کھلاتے رہنا چاہئے۔ہر مہینے ایک دوبار اسے دہرایا جا سکتا ہے۔جریان خون کے آغاز میں کالی فاس کے ساتھ فیرم فاس ملانا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔دل کی تکلیف انجائنا میں بھی کالی فاس یا درکھنے کے قابل دوا ہے۔انجائنا میں اسے میگ فاس سے ملا کر دیا جائے تو بہت مفید ثابت ہوتی ہے لیکن حسب ضرورت دوسری دوائیں بھی دینی پڑتی ہیں۔کالی فاس کی پھنسیاں اور دانے چہرے اور دیگر اعضاء پر نہیں ہوتے بلکہ پیٹ یا کمر پر ظاہر ہوتے ہیں۔اس کے لئے صرف کالی فاس استعمال کروائیں لیکن اگر افاقہ نہ ہو تو دوسری دوائیں استعمال کریں۔اگر جلدی بیماریاں جسم کے اندر منتقل ہو جائیں تو بسا اوقات وہ اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور اس میں دفاع کی طاقت نہیں رہتی۔کالی کا رب اور سورائیم کا شمار ایسی دواؤں میں ہے جو ایسے مریض کے جسم کو فو را گرم کر دیتی ہیں اور بیماری کو جلد پر اچھال دیتی ہیں۔لیکن کالی فاس کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب جسم کے اندر سے شروع ہونے والا مرض مثلاً خسرہ اور کاکڑ ا لاکٹر اوغیرہ اعصابی کمزوری کی وجہ سے جلد پر ظاہر نہ ہو سکے۔کالی فاس سورا ئینم وغیرہ سے بالکل مختلف دوا ہے۔بعض ہومیو پیتھک معالجین نے کالی فاس اور دیگر تمام پوٹیشیم والے نمکیات کے بارے میں تنبیہ کی ہے کہ بخار کے دوران ہرگز استعمال نہ کئے جائیں لیکن یہ احتیاط صرف چڑھتے بخار میں لازم ہے۔جب بخار اترنے لگے تو ہر دوا دی جاسکتی ہے اور بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔اگر یادداشت کمزور ہو اور اعصاب جواب دے جائیں اور آخر پاگل پن کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو کالی فاس ایک لاکھ طاقت میں دیں۔