ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 512

کالی فاس 512 خالص خون آنے لگتا ہے۔اعصاب کے اضطراب کی وجہ سے سخت بے چین کرنے والی حرکت ہوتی ہے اور انتڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ رگڑتی ہیں تو سوزش کے نتیجہ میں ان سے جو لعاب نکلتا ہے وہ آؤں کہلاتا ہے۔پھر خون جاری ہو جاتا ہے۔مثانے کے نزلہ میں بھی کالی فاس اثر رکھتی ہے۔بعض لوگوں کو بار بار پیشاب آنے کی بیماری ہوتی ہے جس کے حملے سردیوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔ایسے مریضوں کو عموماً مثانے میں ٹھنڈ لگنے سے مثانے کا نزلہ پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بار بار پیشاب آتا ہے لیکن اس میں جلن نہیں ہوتی بلکہ پیشاب پانی کی طرح صاف ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گہری سوزش کے نتیجہ میں نہیں ہے بلکہ نزلاتی تحریک ہے۔جیسے ناک سے بھی پانی نکلتا ہے تو تکلیف نہیں دیتا لیکن پونچھ پونچھ کرسوزش پیدا ہو جاتی ہے۔اگر کالی فاس کا مثانے کا نزلہ جلد ٹھیک نہ ہو تو اس میں بھی سوزش ٹھہر جاتی ہے اور بعض اوقات تعفن بھی پیدا ہو جاتا ہے۔کبھی کالی فاس کا مریض کا سر درد اعصابی تھکاوٹ کی وجہ سے ہو بظاہر ٹھیک ہو جاتا ہے۔مگر دراصل وہ اعصابی تناؤ گردوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور اس اعصابی دباؤ کی وجہ سے اسے بکثرت پیشاب آنے لگتا ہے۔بعض دفعہ چار پانچ منٹ کے اندر ہی بار بارز ور سے پیشاب آتا ہے۔بسا اوقات علمی کام کرنے والوں میں ایسے دورے ہوتے ہیں۔سخت دماغی محنت اور اعصابی دباؤ کے نتیجہ میں کبھی دوران سر، کبھی سر درد اور کبھی بار بار پیشاب آنے کی حاجت پیدا ہوتی ہے۔اعصابی تناؤ سے جو جنسی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں ان کا بھی کالی فاس علاج ہے۔اسی طرح جن عورتوں میں حمل گرنے کارجحان پایا جائے ان کے علاج میں کالی فاس کو نہیں بھولنا چاہئے۔عام طور پر حمل کے آغاز میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو وائی برنم او پولس Vi۔Burnum Opulus) در نیچر میں دی جاتی ہے۔دوسرے تیسرے مہینہ میں سبائنا اور چوتھے پانچویں مہینہ میں کالی کا رب لیکن اگر اعصابی تناؤ سے حمل گرتا ہو تو کالی فاس اس میں چوٹی کی دوا ہے۔