ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 353
ڈیجی ٹیلس 353 عموماً یہ اصول اپنا لینا چاہئے کہ چھوٹی طاقت میں لمبے عرصہ تک دوائیں دیتے رہیں۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد طاقت بڑھاتے رہیں۔میں نے ڈیجی ٹیلس کو عموما تھیں طاقت میں ہی استعمال کرایا ہے۔اس سے زیادہ بڑی پوٹینسی کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔لیکن اگر کسی مرض میں کچھ فائدہ کے بعد افاقہ رک جائے تو پھر طاقت بڑھا کر دیکھنا چاہئے۔ڈیجی ٹیلس میں بھوک کا فقدان اور پیاس کا بڑھ جانا پایا جاتا ہے۔بعض دفعہ کا لحیم کی طرح کھانے کی خوشبو اشتہا پیدا کرنے کی بجائے بھوک کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔لیکن ڈیجی ٹیلس میں کا لچیکم کی طرح شدید قے آنے اور بے ہوش ہو جانے کا رجحان نہیں ملتا۔پیاس بھڑک اٹھتی ہے اور بھوک آہستہ آہستہ بالکل مٹ جاتی ہے۔جگر کی بیماریوں اور برقان میں یہ علامت عام ہے۔اگر مزاجی علامتیں بھی پائی جاتی ہوں تو ڈیجی ٹیلس ان تمام علامتوں میں اکیلی ہی شافی ثابت ہو سکتی ہے۔ڈیجی ٹیلس کی بے چینی آرسنک کی نسبت بھی زیادہ ہوتی ہے۔آرسنک کی بے چینی لیٹنے کے بعد یا ایک حالت میں ٹھہرنے پر بڑھتی ہے جبکہ ڈیجی ٹیلس کی بے چینی ہر حال میں محسوس ہوتی ہے نہ لیٹنے سے کم ہوتی ہے نہ جسمانی حرکت سے۔ایسے بے چین مریض کو ڈیجی ٹیلس ہی دینی چاہئے کیونکہ یہ دل کے عضلات کی تدریجی کمزوری سے تعلق رکھتی ہے۔میرا خیال ہے کہ ایلو پیتھک طریق پر ڈیجی ٹیلس کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والی دل کی خرابیوں میں ڈیجی ٹیکس کی بہت اونچی طاقت مثلاً ایک لاکھ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن کبھی خود میں نے اپنے کسی مریض پر اس کا تجربہ نہیں کیا۔اس لئے اگر کوئی ہومیو پیتھ یہ تجربہ کرنا چاہے تو اسے صرف ایسے مریض پر یہ تجربہ کرنا چاہئے جس کے بچنے کا بظاہر کوئی امکان نہ ہو اور پہلے اس سے اجازت لے لینی چاہئے۔ڈیجی ٹیلس میں خارش بھی ملتی ہے۔کمر پر سرخ دانے نکلتے ہیں۔اکڑوں بیٹھنے سے ، کھانے کے بعد اور موسیقی سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ کھلی ہوا میں اور خالی پیٹ رہنے سے مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔کیمفر ڈیجی ٹیلس کی مصلح دوا