ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 352

352 ڈیجی ٹیلس سے تعلق رکھنے والی کھانسی سے اس کا تعلق نہیں ہے۔بسا اوقات بغیر کسی جھٹکے کے سانس بند ہونے کی تکلیف سے آنکھ کھلتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ نظام تنفس متاثر ہوا ہے جو خود کار طریقے سے سانس جاری رکھتا ہے۔سونے پر سانس کی رفتار میں مسلسل کمی آنی شروع ہو جائے تو مجبوراً ایسے مریض کو کبھی کبھی جگاتے رہنا چاہئے ورنہ وہ سوتے سوتے ہی ختم ہوسکتا ہے۔سوتے سوتے سانس کی رفتار تدریجا کم ہونے کی علامت معدہ کے مریضوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ڈایا فرام (Diaphragm) پر دباؤ کی وجہ سے سانس کم ہو جاتا ہے لیکن معدہ کے مریض اور دل کے مریض کی حالت میں یہ فرق ہے کہ دل کے مریض کی یہ حالت مستقل ہوتی ہے اور معدہ کے مریضوں میں کبھی کبھی معدہ خراب ہونے پر ایسا ہوتا ہے۔سانس بند ہونے کی علامتیں لیکیسس ، فاسفورس اور کار بو ویج میں بھی پائی جاتی ہیں۔ڈیجی ٹیلس کو عموماً دل کی تکلیفوں سے باندھ دیا گیا ہے اس لئے اکثر معالجین دیگر بیماریوں میں اس کے بارے میں سوچتے بھی نہیں ہیں جبکہ عمر کے ساتھ بڑھنے والی پراسٹیٹ گلینڈز (Prostat Glands) کی کمزوریوں میں اگر دیگر علامتیں مشابہ ہوں تو ڈیجی ٹیلس ایک بہت طاقت ور اور مؤثر دوا ثابت ہوتی ہے۔ہر عمر میں پیدا ہونے والی پراسٹیٹ کی تکلیفوں میں عموماً سیبل سیر ولیٹا (Sabal Serrulata) اور چیما فیلا (Chimaphila) کے در دیگر ملا کر دینا بہت مفید ثابت ہوا ہے مگر مد رنگیر میں ان دونوں کے مرکب کا استعمال لمبے عرصہ تک کرنا چاہئے۔اس کے علاوہ بیلا ڈونا ، آرسنک اور تھو جا اونچی طاقت میں ملا کر دینا بھی مفید ہے لیکن پراسٹیٹ کی جو بیماری دل کی بیماری کے ساتھ ساتھ شروع ہوئی ہو اس میں ڈیجی ٹیلس کو اولیت دینی چاہئے۔اس سے پراسٹیٹ گلینڈ آہستہ آہستہ واپس سکڑ کر اپنی اصل حالت میں آجاتا ہے۔بہت کم دواؤں میں یہ طاقت ہے کہ پھیلے ہوئے غدود کو سکیڑ کر واپس اپنی اصل حالت میں لے آئیں۔اس لئے ڈیجی ٹیلس کو چھوٹی طاقت میں لمبے عرصہ تک استعمال کرنا چاہئے۔تمہیں طاقت میں مناسب ہے۔آہستہ آہستہ بڑھنے والی بیماریوں کو زیادہ اونچی طاقت سے فائدہ نہیں پہنچے گا ان میں