ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 234
کپسیکم 234 کیپسیکم کا مریض بہت ضدی ہوتا ہے۔لہذا بعض ایسے علاقوں کے لوگ جہاں بہت مرچیں کھائی جاتی ہیں ضدی ہوتے ہیں لیکن ہر مرچ کھانے والا ضروری نہیں کہ ضدی ہو۔کیپسیکم میں غصہ، چڑچڑاپن او بے اطمینانی کی علامات کیمومیلا سے ملتی ہیں۔ایک گال سرخ ہوتا ہے اور ایک زرد۔بچوں کی بیماریوں میں یہ علامت اکثر دکھائی دیتی ہے۔سر کی جلد پر پسینہ آتا ہے۔مریض کو خود کشی کا خیال تو آتا ہے لیکن عملی قدم نہیں اٹھاتا اور ڈرتا ہے۔اکیلا رہنے کی خواہش کرتا ہے۔سریا کوئی اور عضو بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔سباڈیلا میں بھی یہ علامت ہے۔کیپسیکم میں دھڑکن کا احساس بھی ہوتا ہے۔سر میں شدید درد جو آرام کرنے سے زیادہ ہو جاتا ہے اور حرکت سے کم۔گلا خراب ہونے سے کان کے پیچھے کی ہڈی میں سوزش ہو جاتی ہے جو مستقل مظہر جاتی ہے۔اس کے لئے فائٹول کا اور کونیم وغیرہ بھی مفید دوائیں ہیں۔کیپسیکم کے نزلہ میں مریض کا چہرہ تمتمایا ہوا اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ناک کی نوک سرخ ہوتی ہے۔ناک میں جلن اور سرسراہٹ ہوتی ہے، ناک بند بھی ہو جاتا ہے۔کھانسی کے ساتھ شدید بو آتی ہے اور حلق میں درد ہوتا ہے۔زبان پر چھوٹے چھوٹے آبلے بن جاتے ہیں جن کو چھونے سے درد ہوتا ہے۔نگلنے میں دقت ہوتی ہے۔کیپسیکم کے مریض کے چہرے پر جلد جھریاں پڑ جاتی ہیں۔جلد کی لچک ختم ہو جاتی ہے اور موٹی موٹی لکیریں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔عضلات ڈھیلے اور لٹکے ہوئے ہوں اور دوران خون میں خلل واقع ہو جائے تو کیپسیکم مفید دوا ہے۔تو۔خسرو میں چہرہ بہت تمتمایا ہوا ہو اور کوئی دوسری دوا اثر نہ کرے تو اس میں کیپسیکم دی جا سکتی ہے۔اگر گلے کے غدود پھول جائیں لیکن سخت نہ ہوں بلکہ اسفنج کی طرح پھولے ہوئے اور دباؤ ڈالنے سے دب جائیں تو یہ کیپسیکم کی خاص علامت ہے۔کیپسیکم میں کھانے کے بعد معدہ کی جلن نمایاں ہو جاتی ہے۔پیچش اور اسہال میں گرمی کا احساس ہوتا ہے۔فارغ ہونے کے بعد بھی جلن رہتی ہے۔ٹھنڈے پانی کی شدید