ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 167

برائیونیا 167 احساس کی جھلیاں ہیں۔وہ غیر معمولی طور پر حساس ہو جا ئیں تو اس کے نتیجہ میں جو چکر آتے ہیں ان کا علاج برائیو نیا اور کا کولس سے کیا جاتا ہے۔فرق یہ ہے کہ برائیونیا میں کان کی سوزش کے نتیجہ میں حرکت سے چکر آتے ہیں لیکن کا کولس میں حرکت سے چکر اعصابی خرابی کی وجہ سے آتے ہیں۔جہاں ظاہری طور پر کان میں کوئی مستقل خرابی نہ ہو اور پھر بھی چکر آ ئیں وہاں کا کولس مفید ہے۔جہاں انفیکشن اور چکر ہوں وہاں برائیو نیا برائیونیا بہتر ہے۔برائیونیا کالے موتیے میں بھی مفید ہے لیکن اگر پیاس مفقود ہو تو بہتر دوا جلسیمیم ہے۔یہ بھی اعصابی چکروں کی اچھی دوا ہے مگر برائیو نیا کا دائرہ زیادہ وسیع ہے جو مختلف جھلیوں پر اور کسی حد تک اعصاب پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔کالے موتیے کا زیادہ تعلق اعصاب سے ہے۔برائیو نیا اور جلسیمیم کے ساتھ کلکیر یا فاس 6x اور کالی فاس 6x میں دی جائیں تو بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔بعض اوقات برائیو نیا دینے کے بعد پیاس غائب ہو جاتی ہے اس وقت جلسییم دی جاسکتی ہے اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ دوائیں سردرد کے لئے بھی اچھی ہیں لیکن جلسیمیم کے سردرد میں ٹھنڈی ہوا سے تکلیف بڑھتی ہے اور برائیو نیا کے سردرد میں ٹھنڈ سے آرام آتا ہے۔ویسے جلسیمیم میں سردی و گرمی کا فرق لازم نہیں کیونکہ جب درد بڑھ جائے تو اس پر سردی یا گرمی کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔برائیو نیا کا سر در دلا زما گدی ، ماتھے یا آنکھوں میں اپنا مقام بناتا ہے۔اگر آنکھوں میں ٹھہر جائے تو بہت شدت اختیار کر لیتا ہے۔درد کی لہریں اٹھتی ہیں۔بعض دفعہ کسی تیز دوا کے اثر سے جوڑوں کے دردٹھیک ہو جائیں تو ان کا حملہ آنکھوں پر ہو جاتا ہے اور درد آنکھ کو اپنا مرکز بنالیتا ہے۔آنکھ میں ذراسی حرکت بھی ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے نشتر چبھو دیا ہے۔اس تکلیف کا بر برس کی طرح برائیو نیا سے بھی تعلق ہو سکتا ہے۔جلسیمیم کا در دسارے سر کے علاوہ پیچھے کی طرف جا کر گردن اور بازوؤں کے اعصاب تک ممتد ہو جاتا ہے۔جلسیمیم کے درد کا عمومی تعلق روزمرہ کے اوقات، جن کا انسان عادی ہو، کی بے قاعدگی سے بھی ہوتا ہے۔