ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 166

برائیونیا 166 سر میں درد ہو تو اسے ہرگز بلانا نہیں چاہئے۔وہ ایک غنودگی کی کیفیت میں رہتا ہے۔اگر مرض لمبا ہو جائے تو مستقل بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے لیکن حرکت کرنا اور بولنا بالکل فائدہ نہیں دیتے۔برائیونیا کے مریض کے سر درد کو سردی سے آرام آتا ہے۔درد عموماً سر کے پچھلے حصہ میں یا ماتھے میں ہوتا ہے۔پیاس کی شدت بھی برائیونیا کی نمایاں علامت ہے، مریض بہت ٹھنڈا پانی پسند کرتا ہے۔پانی پی کر اسے سکون ملتا ہے لیکن تھوڑی دیر میں ہی دوبارہ پیاس بھڑک اٹھتی ہے۔بہت زیادہ پانی کی پیاس برائیونیا کی یاد دلاتی ہے۔لیکن برائیو نیا میں بعض صورتوں میں پیاس بالکل غائب بھی ہو جاتی ہے۔معدہ میں سوزش ہوتی ہے۔منہ خشک ہو جاتا ہے اور زبان لکڑی کی طرح اکڑ جاتی ہے مگر پیاس بالکل نہیں ہوتی۔اس وقت زبان پر زردی مائل نہ جمنے لگتی ہے۔یہ اولا سیمیم کی خاص علامت ہے جو شاذ کے طور پر برائیونیا میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔کینٹ نے بھی یہی لکھا ہے کہ برائیونیا میں بعض اوقات پیاس بالکل ختم ہو جاتی ہے۔برائیونیا کے چکر کانوں میں خرابی کی وجہ سے اور حرکت کرنے سے آتے ہیں۔گاڑی یا سمندری جہاز میں جو چکر آتے ہیں اور متلی ہوتی ہے ایسے مریضوں کے لئے فوری علاج کی خاطر بعض نسخے استعمال کئے جاسکتے ہیں جو بہت مفید ہیں۔ایسے موقعوں پر نسخوں کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ ہر مریض سے انفرادی طور پر علامت پوچھنا بسا اوقات ممکن نہیں ہوتا۔اس نسخہ میں برائیو نیا کا کولس ، نکس وامیکا اور اپی کاک شامل ہیں۔کا کولس کا تعلق بھی کانوں کی خرابی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے چکروں سے ہے جن میں یہ سب سے گہری دوا ہے۔دراصل کان کی خرابی کے چکروں میں برائیو نیا اور کا کولس مشابہ ہیں۔کان کی درمیانی ٹیوبوں میں ایک مائع موجود رہتا ہے جو ذرا بھی حرکت کرے تو اعصاب کے ذریعہ دماغ تک اس حرکت کی اطلاع پہنچتی ہے اور توازن یا عدم توازن کا احساس پیدا ہوتا ہے۔مسلسل بدلنے والی حرکت سے چکر آنے لگتے ہیں۔اگر حرکت کی وجہ سے تکلیف ہو یا کان کی ایسی بیماری ہو جس سے اس مائع کے اردگرد جو