ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 168
برائیونیا 168 اگر نیند کے وقت میں فرق پڑ جائے یا کھانے کے اوقات بدل جائیں تو بعض دفعہ سردرد شروع ہو جاتا ہے۔ایسا سر درد جسیمیم سے ٹھیک ہوسکتا ہے۔برائیو نیا کا سر درد وجع المفاصل ، معدہ کی خرابی یا بخاروں سے تعلق رکھتا ہے۔ملیر یا اور ٹائیفائیڈ دونوں بیماریوں میں برائیو نیا بہت مؤثر ہے۔برائیونیا میں اگر جسم دکھے گا تو سر درد بھی ضرور ہو گا۔بخار کی حالت میں بعض دفعہ درد کے ساتھ ہذیان بھی شروع ہو جاتا ہے اور مریض اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگتا ہے۔ویسے برائیونیا کے ہذیان میں مریض زیادہ باتیں نہیں کرتا۔بائیوٹکس، سٹرامونیم ، سلفر اور بیلا ڈونا کے ہذیان شدت میں بہت زیادہ ہوتے ہیں اور بخاروں کے زہریلے مادوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اگر سر درد کی دوا پہچانی جائے تو مرض کی شناخت بھی ہو جاتی ہے۔بیلا ڈونا کا سر دردخواہ ٹائیفائیڈ میں ہو یا کسی اور بیماری میں ، اچانک ہو گا۔سردرد کے ساتھ چہرہ تمتمانے لگے گا خواہ جسم میں خون کی کمی ہی کیوں نہ ہو۔خوف کی بجائے تشدد کارجحان پایا جاتا ہے۔کمزور ہونے کے با وجود غیر معمولی طاقت آجاتی ہے اور ایسے مریض کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ہائی مس (Hyscyamus) میں مریض ہذیان کے نتیجہ میں گند بکنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔یہ علامت اتنی نمایاں ہے کہ گھر والوں کے علاوہ ڈاکٹر بیچارہ بھی شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔مریض کے اخلاق اور رجحانات میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔لیکن ایسا صرف اعضائے تناسل میں سوزش کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے دماغ میں بھی تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ سب علامات مل کر ہذیان کی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ہا ئیوٹکس کے مریض کی ایک اور خاص پہچان یہ ہے کہ وہ چٹکیاں بھر بھر کے جسم اور کپڑوں کو چتا اور نو چتارہتا ہے۔ایسی کوئی علامت برا ئیونیا میں نہیں پائی جاتی۔برائیونیا کی ایک علامت یہ ہے کہ ہونٹوں کے کنارے پھٹ جاتے ہیں اور ہونٹوں پر پڑیاں سی جم جاتی ہیں، مریض گھبرا کر انہیں اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو خون رسنے لگتا ہے۔نیٹرم میور میں بھی یہ علامت ہے اور نیٹرم میور برائیونیا کی مزمن دوا بھی ہے۔برائیونیا کے مریض کے اخراجات رک جائیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن پسینہ