ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 72

72 متاثر ہوتی ہیں اور یادداشت اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ بعض دفعہ مریض بالکل نیم پاگل سا ہو جاتا ہے اور اول فول بکتا ہے۔سوچنے کی طاقت میں کمی آنے لگتی ہے۔کوئی بات سوچے تو چکر آنے لگتے ہیں۔یہ خطرے کا الارم ہے کہ دماغ کے خلیے سکڑنے لگے ہیں۔اس وقت فوراً ارجنٹم میٹیلیکم اونچی طاقت میں دینی چاہئے جسے پندرہ میں دن یا مہینے کے بعد دہراتے رہنا چاہئے۔دمہ کے مریض سانس کی تنگی دور کرنے کے لئے جو Inhaler استعمال کرتے ہیں اس کے زہر کا اثر بھی ارجنٹم کے اثر سے ملتا جلتا ہے اور وہ بھی دماغ کے خلیوں کو سکیڑتا ہے یہاں تک کہ وہ بالکل ماؤف ہو جاتے ہیں۔ارجنٹم مٹیلیکم کی لیکیس سے اس پہلو سے مشابہت ہے کہ تکلیفیں سونے کے بعد بڑھ جاتی ہیں خصوصاً اعصاب میں بہت کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔سارے بدن کے اعصاب کمزوری محسوس کرتے ہیں۔ارجنٹم میٹیلیکم کا ٹانگوں کے عضلات سے بھی گہرا تعلق ہے۔اعصابی دردیں زیادہ تر دونوں ٹانگوں اور پاؤں میں پائی جاتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریشے پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔یہ دردرات کو سوتے ہوئے اور سرد مرطوب موسم میں بڑھ جاتے ہیں۔بائی کی دردیں بھی ہمیشہ طوفانی اور بھیگے ہوئے موسم میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔برسات کے موسم میں بارش سے پہلے اور بعد میں تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ان دردوں کے ساتھ سوزش نہیں ہوتی مگر مریض سخت بے آرام ہوتا ہے۔عام طور پر ہلکی حرکت موافق آتی ہے۔تیز حرکت سے جوڑوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔آہستہ حرکت سے دردوں کو نسبتا سکون ملتا ہے۔تکلیف نیند سے نہیں بلکہ آرام کرنے سے بڑھتی ہے۔ساری رات رسٹاکس کی طرح جسم میں دردیں اکٹھی ہوتی رہتی ہیں۔فرق یہ ہے کہ رسٹاکس میں بہت جسمانی بے چینی ہوتی ہے جس سے مریض کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ارجنٹم مٹیلیکم جلد کے کینسر اور اندرونی جھلیوں کے کینسر میں بہت مفید ہے۔رحم کے منہ کے کینسر کو عموماً ہر قسم کے معالج نا قابل علاج مرض تصور کرتے ہیں لیکن