حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 471 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 471

416 دیکھنے سمجھنے اور پر لکھنے کا موقع ملا۔ہمارا رخصتانه -۵ اگست ۱۹۳۴ء کو ہوا تھا اور ۶۔اگست کو میں انہیں بیاہ کر قادیان پہنچا تھا اور ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی ۶ ستمبر ۱۹۳۴ء کو میں اپنی تعلیم کے لئے انگلستان روانہ ہو گیا۔یہ پہلی چیز تھی جس نے مجھے موقع دیا کہ میں ان کی طبیعت کو سمجھوں۔ایک ذرہ بھر بھی انقباض نہیں پیدا ہوا کہ میں اپنی تعلیم کو مکمل کروں جس تعلیم نے آئندہ چل کر مجھ سے بہت سی خدمات بھی لینی تھیں۔ہماری شادی کے متعلق حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا) کو بہت سی بشارتیں ملی تھیں۔اس کے نتیجہ میں یہ شادی ہوئی تھی۔یہ رشتہ آپ نے کروایا تھا الہی بشارت کے مطابق اور جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتخاب اللہ تعالٰی نے بعض اغراض کے مد نظر خود کیا۔اور ایک ایسی ساتھی میرے لئے عطا کی جو میری زندگی کے مختلف ادوار میں میرے بوجھ بانٹنے کی اہمیت بھی رکھتی تھی اور ارادہ اور عزم بھی رکھتی تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جس پر جتنا بھی میں شکر کروں کم ہے۔اور چونکہ میں اس وقت مختصراً بعض باتیں بیان کر کے یہ امید رکھوں گا کہ ہم سب میں بھی اور آپ بھی اس جانے والی روح کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ خطاؤں کو معاف کرے اور اپنی رحمتوں سے انہیں نوازے۔رخصتانہ کے ایک مہینہ کے بعد ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ رخصت کر دینا اور پھر قریباً ساڑھے تین سال تک بیچ میں میں آیا بھی دو ایک ماہ کے لئے) ہماری جدائی رہی اور اس جدائی نے کوئی فرق نہیں ڈالا اور جس غرض کے لئے حضرت مصلح موعود نے میرے لئے آکسفورڈ کی تعلیم کو پسند کیا تھا، اس تعلیم میں اس معنی میں محمد اور معاون ہوئیں کہ مجھے ایک (دن) بھی وہاں ان کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے یہ فکر پیدا نہیں ہوئی کہ میرے فراق کی وجہ سے وہ گھبرائیں گی۔مجھے پتہ تھا کہ وہ گھبرانے والی روح نہیں ہیں Fi¶r A- پھر جب میں تعلیم ختم کر کے آیا تو چند سال ہمارے قادیان میں گزرے۔۱۳۸ میں میں آیا ہوں اور ۱۹۴۷ء میں ہجرت ہو گئی۔نو سال ہم قادیان میں رہے اور اس