حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 470
415 ہم تو حضرت مصلح موعود کی وفات پر بھی نہیں روئے غرضیکہ آپ نے خود بھی انتہائی ضبط سے کام لیا اور اپنی اولاد کو بھی صبر و رضا کا سبق دیا۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا ۴ دسمبر ۱۹۸ء کا خطبہ جمعہ دیا جائے جو اس عظیم خاتون کے سوانح اور پاکیزہ سیرت اور غیر معمولی اور نمایاں خدمات کا ایک خاکہ پیش کرتا ہے اس کے ساتھ حضرت صاحب کا وہ تاریخی پیغام بھی شامل کیا جا رہا ہے جو حضور نے احباب جماعت کے نام لکھ کر الفضل میں شائع کروایا۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کو ۴۷ سال کے طویل عرصہ تک ہمارے محبوب آقا حضرت خلیفہ المسیح الثالث" کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا، خصوصاً حضور اقدس کے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت سیدہ بیگم صاحبہ نے عالمگیر جماعت احمدیہ کی تعلیم و تربیت اور خلیفہ وقت کے ساتھ رابطے کے سلسلہ میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔خطبه جمعه خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ مورخہ ۴ / فتح ۱۳۶۰ نمش مطابق ۴/ دسمبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :۔رَضِيْنَا بِاللَّهِ رَبًّا وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ) ) بہت بڑے خزانے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کئے ہیں ان میں سے ایک بہت ہی علیم خزانہ یہ ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی ایسی قضا نازل ہو جو دنیوی حالات میں تکلیف وہ ہو۔اس وقت ایک ہی نعرہ زبان پر آنا چاہئے اور وہ یہ ہے:۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اَلِيْهِ رَاجِعُونَ جیسا کہ دوست جانتے ہیں کل شام قریباً ساڑھے آٹھ بجے منصورہ بیگم اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میرا ان کا ساتھ بڑا لمبا تھا۔قریباً ۴۷ سال ہم میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہے اور ۴۷ سال جہاں انہیں مجھے دیکھنے اور سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملا، مجھے بھی انہیں