حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 472
417 کا عرصہ میں میں تو واقف زندگی تھا اسما اور کوشش کرتا تھا کہ عملاً بھی رہوں۔اور وہ واقفہ زندگی بن گئیں عملاً، پہلے میرے سپرد جامعہ احمدیہ میں پڑھانا اور خدام الاحمدیہ کی کام تھا۔اس قدر ساتھ دینے والی تھیں کہ ایک دن خدام الاحمدیہ کے کسی پروگرام کے مطابق مجھے عصر کے بعد اپنے گھر سے دور کسی محلے میں خدام کے کسی پروگرام میں شرکت کے لئے جانا تھا۔میری بچی امتہ الشکور اس دن بڑی سخت بیمار ہو گئی اور اسے اسهال شروع ہوئے اور دیکھتے دیکھتے اس کا وزن آدھا ہو گیا یعنی جسم کا پانی نچڑ گیا اور میری طبیعت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ میں وہ پروگرام Cancel کر دوں اور بچی کے پاس گھروں۔میں نے ہومیو پیتھک کی ایک دوا لے کے اس کے منہ میں ڈالی اور منصورہ بیگم سے کہا کہ شفاء دینا اور زندگی دینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔میں یہاں رہوں یا نہ رہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے السلام علیکم میں جا رہا ہوں۔چہرے پر بالکل کوئی گھبراہٹ نہیں آئی۔اس وقت بھی وہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔مسکراتے ہوئے مجھے رخصت کر دیا اور خدا تعالیٰ کی یہ شان ہم دونوں نے دیکھی کہ جب میں واپس آیا تو بچی صحت یاب ہو چکی تھی۔اور کام پڑتے رہے۔الیکشن آئے ، نہ دن کی ہوش نہ رات کی ہوش۔قادیان سے ہجرت کا زمانہ آگیا، بڑا سخت زمانہ تھا۔آپ میں سے جو لوگ اس دور میں سے نہیں گزرے وہ اندازہ نہیں کر سکتے۔کس قدر روحانی اور ذہنی اور جسمانی اذیت میں سے گزرنا پڑا۔روحانی اس لئے کہ ہمارا جو مرکز تھا جہاں (حضرت اقدس) مدفون تھے ہمیں نظر آ رہا تھا کہ وہ ہم سے چھٹ جائے گا پھر باقی قتل و غارت۔ہر وہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتا تھا، مظلوم تھا اسے قتل کیا جا رہا تھا، اس کو شہر بدر گاؤں بدر ملک بدر کرنے کا منصوبہ تھا۔ان کے اموال لوٹے جا رہے تھے ، ان کی عزتیں خراب کی جا رہی تھیں، ان کی عزتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے لوٹا جا رہا تھا۔اس وقت سب بھول گئے تھے کہ کسی فرقہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔صرف ایک بات یاد تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور خدا کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ کی خاطر وہ اذیتیں دئے بھی جا رہے ہیں اور اذیتیں