حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 195 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 195

180 گئے۔بعض اپنی بے گناہی اور معصومیت کا واسطہ دینے لگتے وغیرہ وغیرہ۔میرے پلٹن والے اس کیپٹن کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اگر موقعہ ملا تو وہ بھی کسی کو سزا سنائیں اور دیکھیں کہ کس قسم کے تاثر کا اظہار ہوتا ہے۔ایک روز بعد دوپہر ایک فائل ان کو ملی جس میں ایک قیدی کے خلاف فیصلہ درج تھا اور کوئی افسر فوری طور پر موجود نہیں تھا۔انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور خود جیل پہنچ گئے فائل سے نام پڑھا۔یہ نام گرامی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔یہ کیپٹن ان سے بالکل واقف نہ تھے۔علیک سلیک کے بعد چارج شیٹ اور سزا انگریزی میں پڑھ کر سنائی۔ان کیپٹن صاحب کے دماغ میں تھا کہ دیکھیں ان صاحب کا رد عمل دیگر لوگوں کی نسبت کیا ہو گا۔جب یہ کیپٹن صاحب ساری کارروائی انگریزی میں سنا چکے تو حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے جانے کی اجازت چاہی۔نہ تعجب نہ حیرانگی نہ گھبراہٹ نہ کوئی تاثر نہ فکر نہ غم، کیپٹن صاحب تو کسی عجیب و غریب رد عمل کے منتظر تھے۔فورا بولے آپ شاید انگریزی نہ سمجھے ہوں میں اردو میں پڑھ کر سناتا ہوں اس پر اس کوہ وقار اور متوکل انسان نے فرمایا :۔کیپٹن صاحب آپ کی مہربانی سے آکسفورڈ کا گریجوایٹ ہوں۔تو الٹا کیپٹن صاحب پر کپکپی کا عالم طاری ہو گیا۔سزا اور جرمانہ بہت شدید تھے گو جرم صرف ایک خاندانی زیبائشی خنجر کو گھر رکھنے کا تھا۔۵۳۴ قید و بند کے دوران آپ کے ملنے والوں کے تاثرات آپ کے ایک ساتھی قیدی ملک عبد الرب صاحب لکھتے ہیں:۔" ۱۹۵۳ء میں جبکہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب۔۔۔۔اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو قید کیا گیا۔میں اس وقت مچھ جیل (بلوچستان)