حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 196 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 196

181 میں تھا۔ازاں بعد مجھے سنٹرل جیل لاہور میں منتقل کیا گیا۔چند دنوں کے بعد مجھے راشن کا منشی بنا دیا گیا۔میرے ہمراہ دو غیر احمدی تھے۔۔۔انہوں نے ایک روز مجھے بتایا کہ حضرت صاحب (خلیفہ ثانی۔۔۔۔کے بیٹے اور بھائی بھی یہاں قید ہیں۔میں دوڑتا ہوا حضور کی کوٹھڑی کی طرف گیا۔۔۔۔آپ کا کمرہ بہت چھوٹا سا تھا لیکن روزانہ ملاقات کے لئے جاتا۔۔۔حضور اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے چہرے پر کرب ، گھبراہٹ یا بے چینی کا کسی قسم کا تاثر میں نے نہیں دیکھا۔ہر وقت حضور کا چہرہ ہشاش بشاش رہتا تھا۔۔۔۔کئی مرتبہ جب حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو دبانا چاہا۔میاں صاحب حضور کی طرف اشارہ کر کے فرماتے کہ میری بجائے میاں صاحب کو دباؤ۔اس وقت تو اس اشارہ کا مطلب پتہ نہ چلا مگر بارہ سال بعد جب کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی خدا داد بصیرت کا پتہ چلا۔۔۔۔جیل کے دنوں کی رفاقت کی وجہ سے حضور نے قبل از خلافت اور بعد از خلافت جس شفقت اور محبت کا سلوک مجھ سے فرمایا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی مجھے اتنا پیار میرے والدین نے بھی شاید نہ دیا ہو۔“ ۵۴ محترم پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب نے ۱۹۵۳ء میں ایک شریف النفس سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ذریعے جیل میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سے سب سے پہلے ملاقات کی۔وہ اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اندرونی آہنی دروزاہ کے کھلنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی پاؤں کی چاپ۔میں مجسم انتظار تھا۔اب سر تاپا آنکھیں بن گیا۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ دو دسکتے چہرے کمرے کے اندر داخل ہوئے ایک جیسا لباس ، ایک جیسا و قار ایک جیسا سکون و