حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 194
179 اسی افسر کو دو ایک روز کے بعد ایک بڑے عالم دین چیمہ کی گرفتاری کے وارنٹ ملے۔وقت گرفتاری تقریباً پہلے والا۔ان کے گھر پہنچے گھنٹی اور دروازہ کھٹکھٹاتے رہے مگر کافی دیر تک کوئی جواب نہ ملا۔کافی وقت کے بعد ایک نوکر آنکھیں ملتا ہوا آیا۔جب مولانا کے متعلق معلوم کیا تو جواب ملا سو رہے ہیں۔کافی تگ و دو کے بعد مولانا سے ملاقات ہوئی جب وارنٹ گرفتاری دکھائے تو اسلامی اور عربی اصطلاحات میں لے چلے تو یہ لیفٹیننٹ دل ہی دل میں سوچتے رہے کہ ایک "کافر" تو تجد پڑھ رہا تھا اور توکل کا اعلیٰ نمونہ خاموشی سے پیش کرتا گیا دوسری طرف بزعم خود یہ عالم دین محمل ، توکل اور بردباری سے قطعا عاری۔دوسرے واقعہ کا تعلق اس دور سے ہے جب اس گرفتاری سے متعلقہ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے مقدمہ کا فیصلہ ہو چکا تھا اور آپ کو سزا سنائی گئی۔یہ واقعہ سنانے والے ایک کیپٹن صاحب تھے جو اس بلوچ رجمنٹ سے ہی تعلق رکھتے تھے جس میں خاکسار بھی تعینات تھا۔وہ ایک روز میرے گھر تشریف لائے۔۱۹۲۶ء کی بات ہے۔باتوں باتوں میں انہیں میرے احمدی ہونے کا علم ہوا۔یہ کیپٹن صاحب پوچھنے لگے کہ آج کل آپ کے خلیفہ کون ہیں؟ جب میں نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کا نام لیا تو یکدم سکتے میں آ گئے۔کہنے لگے۔میرا ایک ذاتی مشاہدہ ہے کہ آپ کی جماعت واقعی خدائی سایہ کے نیچے اور روحانی ہاتھوں میں ہے۔پھر انہوں نے یہ واقعہ بتایا کہ ان کی ڈیوٹی ۱۹۵۳ء کے مارشل لاء میں تھی۔ان کے فرائض میں ایک کام یہ تھا کہ جن لوگوں کے مقدمات کے فیصلے مکمل ہوتے تو کسی افسر کو مقرر کرتے کہ جیل میں جا کر اسے سزا سنا آئیں جن افسروں کو یہ کام دیا جاتا وہ اپنے عجیب و غریب مشاہدات بیان کرتے کہ ایک صاحب جن کو سزا سنائی گئی غیظ و غضب میں آگئے۔ایک اور صاحب سکتے میں آ گئے بلکہ شدید مایوس ہو