حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 121
106 سے ملنا جلنا ہوتا۔یہ تعلق بھائی کا دیر تک رہا۔بھائی کے ہندوستانی دوستوں میں سے ایک سید اکبر مسعود صاحب غالبا سر سید احمد صاحب کے پوتے یا پڑپوتے تھے یہ بعد میں بمع اپنی بیگم کے ایک دو بار ربوہ بھی آئے اور اس پرانے تعلق کو نہ چھوڑا۔آپ سے ان کا تعلق تو اس سے سمجھ آ سکتا ہے کہ ایک بار وہ رات کے وقت ربوہ کے قریب سے گزر رہے تھے تو انہوں نے اپنی بیگم کو کہا آج رات ناصر کے ہاں ہی رہ لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بھائی کا دروازہ ۱۰ یا ۱۱ بجے رات کھٹکھٹایا۔اس وقت بھائی کالج والے مکان میں رہتے تھے۔سڑکیں وغیرہ تو ابھی کی بنی نہ تھیں۔گردو و غبار میں سے جب اندر داخل ہوئے تو منظر اور ہی تھا ہر چیز سلیقے سے اپنی جگہ رکھی ہوئی تھی۔کھانا بھی فوراً مل گیا۔اکبر صاحب اور ان کی بیوی بہت حیران ہوئے اور بھائی اور میری خالہ رسیده منصورہ بیگم صاحبہ) کی مہمان نوازی کا اس قسم کا اثر ہوا کہ ہر جگہ بیان کرتے تھے۔انگلستان اور یورپ میں بھائی نے مکمل طور پر حضرت مصلح موعود کی ہدایات پر عمل کیا اور کوئی ایسی بات نہ ہونے دی جس سے کسی کو انگشت نمائی کا موقعہ ملے ۶۷؎۔وقف زندگی آپ اس وقت حصول تعلیم کے لئے یورپ میں تھے جب آپ نے اپنے عظیم والد اور خلیفہ وقت المصلح موعود ہی ان کو جرمنی سے خط لکھ کر ان کی خدمت میں اپنے اس ارادے کا اظہار کیا کہ آپ دین کے لئے زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ آپ کو حضرت مصلح موعود نے پہلے ہی وقف کیا ہوا تھا۔آپ نے اس سلسلہ میں جو خط لکھا وہ درج ذیل ہے۔ย