حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 120
105 رغبت ہے۔انگریزوں کو اور خصوصا عیسائیوں کو دین سے تو چونکہ کوئی سروکار نہیں ہوتا اور دنیا داری کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے یہ خاتون کہنے لگیں کہ اس وقت میرے منہ سے نکلا۔What a waste of time لیکن اب جب میں دیکھتی ہوں کہ وہ جماعت کے سربراہ ہیں تو ندامت ہوتی ہے کہ کتنا غلط فقرہ منہ سے نکل گیا تھا۔حقیقی اور بامراد زندگی تو انہیں ملی ہے۔اس خاتون نے یہ بھی بتایا کہ حضور اپنی جوانی میں بہت با حیا اور شرمیلی طبیعت کے مالک تھے۔بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے چنانچہ جب آپ رخصتوں میں فارم پر تشریف لاتے تو اردگرد کے بچے آپ کے گرد جمع ہونے میں خوشی محسوس کرتے۔آپ جیب میں چاکلیٹ وغیرہ رکھتے اور بچوں میں تقسیم کرنے میں خوشی اور انبساط محسوس کرتے۔کھانے میں سختی سے یہ پابندی فرماتے کہ صرف ذبیحہ استعمال کریں اور چونکہ اسلامی ذبیحہ میسر نہ آ سکتا تھا اس لئے خود مرغی اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے۔وہی کھاتے۔اس خاتون نے مجھے ایک تصویر بھی دکھائی جس میں حضور مرغی ذبح فرما رہے تھے۔۶۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب آپ کے انگلستان کے زمانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔" ۱۹۳۳ء میں میں انگلستان چلا گیا۔مجھ سے پہلے مرزا مظفر احمد صاحب جا چکے تھے اور غالبا مرزا سعید احمد صاحب مرحوم بھی۔۱۹۳۴ء میں بھائی انگلستان آ گئے۔ہم تینوں تو لندن میں تھے مگر بھائی Balliol College آکسفورڈ میں پڑھتے تھے۔بھائی صاحب کا لندن آنا جانا رہتا تھا اور اگر کبھی وہ نہ آتے تو ہم آکسفورڈ چلے جاتے اور اچھی رونق رہتی۔آکسفورڈ میں بھائی کے دوستوں کا حلقہ اچھے انگریز خاندانوں سے تھا جو آپ کی پوزیشن کو سمجھتے تھے اور اسی رنگ میں آپ