حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 122 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 122

107 سیدی ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته امید ہے کہ حضور ہر طرح سے خیریت سے ہوں گے۔میرے حلق میں تکلیف بدستور ہے۔دعا کی درخواست ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرما دے۔آمین۔ایک طرف حضور کے خطبات منافقین کے متعلق نظر سے گزرے دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پڑھنے کا اتفاق ہوا۔کہیں آپ فرماتے ہیں کہ میری نظر ان غریبوں پر ہے جو نہ بی۔اے بننا چاہتے ہوں اور نہ ایم۔اے بلکہ نیک انسان اور خادم دین۔دل پر بہت گہرا اثر ہوا۔اور ان دنوں میں میرا دل جن خیالات جن جذبات کی آماجگاہ رہا ہے۔نہ ممکن ہے نہ ہی ادب اجازت دیتا ہے۔مختصر ا گزارش ہے کہ میرا خیال تھا کہ جماعت میں منافقین گنتی کے چند آدمیوں سے زیادہ نہ ہوں گے مگر حضور کے خطبہ سے ان کی تعداد زیادہ معلوم دیتی ہے۔بہت سے کمزور لوگ بہت سے جاہل اور نا سمجھ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ان منافقین کے کے کہائے ایسے کام کر گزرتے ہیں جو منافقین کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔خصوصاً ان ایام میں جبکہ جماعت خاص حالات میں سے گزر رہی ہے وہی چیزیں جو مخلصین کے دلوں کو شکریہ اور محبت کے جذبات سے بھر دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کی خدمت کا شرف بخشا۔آخر وہ مال اسی کا ہے جس کو دین کی راہ میں خرچ کر کے ہم ، ثواب حاصل کرتے ہیں۔آخر یہ جان اس کی دی ہوئی ہے کہ جو اس کی راہ میں خرچ کی جائے تو اس کے قرب کا موجب ہوتی ہے۔گھر سے تو کچھ نہ لائے۔حقیقت تو یہی ہے کہ انسان سب کچھ دے کر بھی شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔کجا یہ کہ دین پر کسی قسم کا احسان رکھے۔یہ تو محض اس کا فضل ہے کہ وہ بندہ نوازی سے ان چیزوں کو قبولیت کا فخر بخشتا ہے۔مگر یہی چیزیں کمزوروں اور نا سمجھوں کے لئے بار ہو جاتی ہیں۔اور ٹھوکر کا موجب۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔خیر جو کچھ بھی ہے۔جماعت ان حالات میں گزر رہی ہے کہ جو حالات عظیم الشان قربانی کا مطالبہ کر رہے ہیں اگر اسے قربانی کہا جا سکتا ہے۔بہت سے نوجوان ہیں جنہوں نے اس راز کو سمجھا اور آج دنیا کے کونوں میں احمدیت کی