حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 65 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 65

65 پیش آیا امتحان کے دنوں میں بعض لڑکوں کو اگلے روز ہونے والے امتحانی پرچے کا علم ہو گیا اور انہوں نے نصف شب آپ کو جگایا اور امتحانی پرچے کی نقل آپ کو دینا چاہی۔آپ نے فرمایا ” میں صرف اس محنت کا صلہ لینے کا حق دار ہوں جو میں نے کی۔جو نمبر مفت ملتے ہوں وہ میں کبھی نہیں لوں گا۔تم نے اپنی سمجھ کے مطابق مجھے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی اس کے لئے میری طرف سے شکریہ۔مگر اب مجھے سونے دیجئے“ یہ سن کر پرچه بردار دوست شرمندہ ہو کر واپس چلے گئے۔۴۲ آپ کے ایک ساتھی کے تاثرات آپ کے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو مکرم محبوب عالم صاحب خالد گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ روزانہ کالج کے علاوہ چھ سات گھنٹے پڑھتے تھے اور چھٹی والے دن بارہ بارہ تیرہ تیرہ گھنٹے پڑھتے تھے۔آپ وقت کو بالکل ضائع نہیں کرتے تھے۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج کی فٹ بال ٹیم کے باقاعدہ ممبر تھے اور بڑے شوق اور جذبے کے ساتھ دینی اور تبلیغی سرگرمیوں میں بھی شامل ہوتے تھے۔طبیعت میں سادگی اور حیا تھی۔تکلف بالکل نہیں تھا۔تصنع اور بناوٹ اور خوشامد بالکل نہ تھی۔تبلیغ کا جوش تھا اور بے حد نڈر تھے۔۔کئی دفعہ نصف شب تک پڑھنے کے بعد احمد یہ ہوسٹل میں ان کے کمرے میں چلے جاتے اور تھوڑی دیر بعد آکر پھر پڑھنا شروع کر دیتے۔آپ کی قوت ارادی کا یہ عالم تھا کہ جتنی دیر کے لئے سوتے۔اتنا وقت سو کر خود ہی اٹھ جاتے۔بعض اوقات فرماتے دس منٹ سونا چاہتا ہوں۔اور خواہ کتنے ہی تھکے ہوئے ہوتے۔پورے دس منٹ بعد خود ہی اٹھ کھڑے ہوتے۔حضرت مسیح موعود کے الہام " خذوا التوحید یا ابناء الفارس " کا کئی بار ذکر فرماتے۔آپ کا کردار بہت بلند تھا۔کالج کے دوران آپ قاضی محمد اسلم صاحب سے فلاسفی کا مضمون پڑھتے تھے۔اور احمد شاہ پطرس بخاری سے انگلش پڑھتے تھے۔حضرت اماں جان کا ارشاد تھا کہ مغرب کی نماز باجماعت پڑھا کریں۔چنانچہ ایک میل مغرب کی