حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 66
66 نماز باجماعت پڑھنے کے لئے تشریف لے جاتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی " کا بے حد ادب احترام کرتے تھے۔اور حضور کے منشا کو خوب سمجھتے تھے اور تعمیل ارشاد کے لئے دن رات ایک کر دیتے۔حضور نے اس زمانے کی آپ کی اور باقی نوجوانوں کی تبلیغی سرگرمیوں کا سنا اور بنفس نفیس لاہور تشریف لائے اور شاباش دی۔جوانی میں خدا داد رعب اور تقویٰ و طہارت پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔حضور کے طالب علمی کے زمانے میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہ تھی۔حضور کے ایک کلاس فیلو نے (جو بدقسمتی سے اب جماعت سے تعلق توڑ چکے ہیں اور کسی زمانے میں حضور ان کے ہاں ہم شکار کے سلسلے میں مہمان بھی ٹھرا کرتے تھے) عاجز کو بتایا کہ گورنمنٹ کالج میں پڑھا کرتے تھے اور جب حضور کو آتے ہوئے دیکھتے تھے تو احتراماً اپنے سروں کو ڈھانپ لیا کرتے تھے۔اس سے ملتی جلتی ایک اور شہادت بھی حضور کے ایک اور کلاس فیلو کی طرف سے عاجز تک پہنچی ہے۔جب قدرت ثانیہ کا تیسرا ظہور ہوا اور حضور نے خلعت خلافت زیب تن فرمائی تو انہی دنوں پروفیسر ڈاکٹر ناصر احمد خان پروازی کا فیصل آباد کی ایک محفل میں جانا ہوا جہاں حضور کے ایک کلاس فیلو بھی تشریف فرما تھے۔غالباً نواب زادہ میاں حامد احمد خان کے اعزہ میں سے تھے اور غیر از جماعت تھے۔ڈاکٹر پروازی صاحب سے ملے تو کہنے لگے بھئی مبارک ہو آپ کو نیا لیڈر بہت خوب ملا ہے ہم اکٹھے پڑھتے تھے اور ہم انہیں کہا کرتے تھے کہ آپ کے دادا جان کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن اگر آپ نبوت کا دعوی کر دیں تو ہم آپ کو مسیحا تسلیم کر لیں گے۔عاجز عرض کرتا ہے کہ یہ محض ایک نوجوانوں والا مذاق نہیں تھا۔حضور۔