حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 566 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 566

515 ” خدا تعالیٰ نے شروع خلافت میں مجھے بتایا تھا ” تینوں ایناں دیواں گا کہ تو رج جاویں گا"۔حضور کے علاوہ جماعت کے بعض دوستوں کو بھی بشارتیں ملیں۔حضور نے اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور موقع پر فرمایا :۔ایک دوست کو خواب میں حضرت مصلح موعود نظر آئے۔۔۔۔آپ نے اس دوست کو کہا کہ اس کو یعنی مجھے یہ پیغام پہنچا دو کہ فضل عمر فاؤنڈیشن سے منارہ ضرور بنایا جائے اور منارہ کی تعبیر ایسے شخص کی ہوتی ہے جو اسلام کی طرف دعوت دینے والا ہو اور اس کا مطلب یہ تھا که فضل عمر فاؤنڈیشن سے جید عالم ضرور پیدا کئے جائیں اس سے بے توجہی نہ برتی جائے۔بہت سی اور خواہیں بھی دوستوں نے دیکھی ہیں۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس فنڈ کی رقم یعنی جو سرمایہ ہے اس کو خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ جن مقاصد کے پیش نظر فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام کیا گیا ہے ان کو پورا کرنے کے لئے جس قدر روپیہ کی ہمیں ضرورت پڑے گی وہ اس فنڈ کی آمد سے حاصل کیا جائے گا ل جس شوق اور جذبے سے حضرت خلیفہ المسیح الثالث " کی پہلی تحریک پر احباب جماعت نے حصہ لیا اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔اس شوق اور جذبے کی ایک جھلک مندرجہ ذیل واقعہ میں نظر آتی ہے جو ایک مجلس عرفان میں حضور نے اپنی خلافت کے دوران ایک مرتبہ خود بیان فرمایا :- فضل عمر فاؤنڈیشن کا جب چندہ جمع ہو رہا تھا تو ایک دن ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔مجھے دفتر نے اطلاع دی کہ ایک بہت معمر مخلص احمدی آئے ہیں وہ سیڑھی نہیں چڑھ سکتے اور حقیقت یہ تھی کہ یہاں آنا بھی ایک لحاظ سے انہوں نے اپنی جان پر ظلم ہی کیا تھا۔چنانچہ وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔میں نے کہا میں نیچے ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔خیر جب میں گیا۔پتہ نہیں تھا کہ وہ کیوں آئے