حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 567 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 567

516 ہیں۔مجھے دیکھ کر انہوں نے بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کے لئے زور لگایا تو میں نے کہا نہیں آپ بیٹھے رہیں۔وہ بہت معمر تھے۔انہوں نے بڑے پیار سے دھوتی کا ایک پلو کھولا اور اس میں سے دو سو اور کچھ رقم نکالی اور کہنے لگے یہ میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے لے کر آیا ہوں۔پیار کا ایک مظاہرہ ہے۔پس اس قسم کا اخلاص اور پیار اور اللہ تعالٰی کے لئے قربانی کا یہ جذبہ ہے کہ جتنی بھی توفیق ہے پیش کر دیتے ہیں۔اس سے ثواب ملتا ہے رقم سے تو نہیں ملتا" ال تحریک کے پہلے دور کا اختتام اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا اظہار تشکر اس تحریک کا ابتدائی زمانہ ادارہ کے انتظامی امور کی تکمیل کے ساتھ ساتھ وعدوں کے حصول میں اور پھر تین سال وصولی کی جدوجہد میں گزرے۔عطایا کی ادائیگی کی معیاد ۱۹۶۹ء کے آخری حصہ میں ختم ہو گئی۔گو تحریک کے لئے عطایا کی حد ۲۵ لاکھ روپیہ مقرر ہوئی تھی مگر مخلصین نے جس جذبہ فدائیت کے ساتھ حصہ لیا اس سے وصولی کی مقدار عملاً ۳۴ لاکھ کے لگ بھگ پہنچ گئی۔دور اول کی کامیابی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے فرمایا :۔” دل فضل عمر فاؤنڈیشن کے درخت کو پروان چڑھتا دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے فاؤنڈیشن کے درخت کو حوادث سے محفوظ رکھا اور اسے پھل دینے کے قابل بنایا۔در اصل اب فاؤنڈیشن کے لئے عطا یا جمع کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے اور اب دوسرا دور شروع ہو رہا ہے۔یہ دوسرا دور درخت کی خاطر خواہ حفاظت کا دور ہے تاکہ یہ درخت خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں زیادہ