حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 76 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 76

76 دجالی فتنہ جس رنگ میں دنیا پر غالب ہے اس کی تصویر کھینچنے کی مجھے ضرورت نہیں۔کوئی چیز آج اسلام کی باقی نہیں۔۔۔۔جب تک اسے مٹانے کے لئے ہمارے اندر دیوانگی نہ ہوگی۔۔۔۔۔اس وقت تک ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔میں نے ہمیشہ یہ دعا کی ہے اور متواتر کی ہے کہ اگر میرے لئے وہ اولاد مقدر نہیں جو دین کی خدمت کرنے والی ہو تو مجھے اولاد کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ابراہیمی مقام جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کیا گیا اور آپ کی اولاد سے جس مقام پر کھڑے رہنے کی امید کی گئی یہ ہے کہ وہ دنیا کمانے کے خیالات سے علیحدہ ہو کر صرف دین کے پھیلانے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔۔۔۔۔یہ خدا کا کام ہے اور اگر ہم اس کام کو نہیں کریں گے تو اور لوگ کھڑے کر دیئے جائیں گے لیکن وہ دن بد ترین دن ہو گا ت خیال کرو کہ تم دین کی خدمت کر کے کوئی قربانی کر رہے ہو۔یہ خدا کا احسان ہے جو تم سے کام لے رہا ہے حقیقی زوجیت خدا تعالٰی کے تعلق میں ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ شادیوں کے ذکر میں نمازوں کا خصوصیت سے ذکر کرتا ہے۔اگر ہم دنیا میں زوجیت کا تعلق قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا اور اس کے رسول کی محبت میں سرشار رہنا ہمیں گوارا نہ ہو اور حقیقی خوشی تو اس وقت تک ہمیں حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اسلام دنیا میں قائم نہیں ہو جاتا اس وقت تک دنیا کی خوشیاں بھی ہمیں غم میں مبتلا کر دیں گی۔۔۔۔اس خطبہ کے بعد اور اس ذمہ داری کی حقیقت واضح کرنے کے بعد که ساری ذمہ داریاں اسی میں آجاتی ہیں میں ان نکاحوں کا اعلان کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ہوں اللہ تعالی نے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کو اس شادی سے جو اولاد عطا