حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 77 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 77

77 فرمائی وہ یہ ہے۔107 ا۔صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب (پیدائش ۱/۱۷اپریل ۱۹۳۷ء) ۲۔صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ (پیدائش ۳۶/ اپریل ۱۹۴۰ء) صاحبزادہ امته الحلیم صاحبہ (پیدائش ۲۹/ جنوری ۱۹۴۲ء) ۴۔صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب (پیدائش ۴/ مارچ ۱۹۵۱ء) صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب (پیدائش ۹/ نومبر ۱۹۵۳ء) حضرت اماں جان کو آپ کی اولاد سے بھی شدید محبت تھی۔چنانچہ آپ کے بھائی مرزا وسیم احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ قادیان بیان کرتے ہیں:۔" تقسیم ملک سے قبل اس عاجز کو حضرت ام المومنین ان کو روزانہ بعد نماز فجر قرآن مجید پڑھ کر سنانے کی سعادت نصیب ہوئی۔انہیں دنوں جب کہ میں آپ کو قرآن مجید پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے بڑے صاحبزادے محترم انس احمد صاحب کو سیرو تفریح کے دوران سر پر شدید چوٹ لگی۔محترم صاحبزادہ صاحب کی تیمارداری کے لئے ہم بھائیوں کی جو ہم عمر تھے یعنی صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب وغیرہ کی ڈیوٹی لگتی تھی۔ڈاکٹری ہدایات کے ماتحت مریض بچے کے پاس ہر وقت کسی کا موجود رہنا ضروری تھا۔ہماری ڈیوٹی دن رات میں بدلتی رہتی تھی۔چنانچہ ایک دن قرآن مجید سنانے کے بعد حضرت ام المومنین نے فرمایا :- " تم میرے بیٹے کے بیٹے کی تیمارداری میں لگے ہو، میں تمہارے لئے دعا کرتی ہوں۔حضرت ام المومنین کے دل میں حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے لئے بے پناہ محبت تھی اور آپ کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔یہی محبت آپ کی اولاد کی طرف بھی منتقل ہوئی جس کا اظہار حضرت ام المومنین ایا نے اس عاجز سے کیا۔