حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 75
75 اور بے تحاشا بھاگنے لگ گئے یہاں تک که صرف باره آدمی رسول کریم الا اللہ کے پاس رہ گئے۔اسلامی لشکر اس وقت کسی بزدلی کی وجہ سے میدان جنگ سے نہیں بھاگا بلکہ۔۔۔۔۔۔دو ہزار گھوڑوں کے بھاگنے نے ان کے گھوڑوں کو مرعوب کر دیا۔۔۔صحابی اپنے گھوڑوں کو۔۔۔۔۔۔روکنے کے لئے ان کی باگیں۔۔۔۔اتنے زور سے کھینچتے کہ ان کی گردنیں ٹیڑھی ہو جاتیں مگر جوں ہی باگ ڈھیلی ہوتی وہ پھر بھاگ پڑتے۔۔۔۔۔اتنے میں رسول کریم ملی لی لی لی لی نے ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف بڑھنا شروع کیا اس وقت بعض صحابہ نے آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور کہا یا رسول اللہ یہ خطرے کا وقت ہے۔اب مناسب نہیں کہ آپ آگے بڑھیں مگر رسول کریم ملی و یا اللہ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو۔نبی پیچھے نہیں ہٹا کرتا۔پھر آپ نے بلند آواز سے کہا انَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِلِبُ میں نبی ہوں۔جھوٹا نہیں، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں) پھر آپ نے کہا۔عباس! بلند آواز سے کہو! اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے جس وقت یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچی۔انہوں نے کسی چیز کی پرواہ نہ کی۔اگر ان میں سے کسی کی سواری مرسکی تو سواری پر چڑھ کر ورنہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کی گردنیں اڑاتے ہوئے وہ چند منٹ میں ہی رسول کریم میل ل لا ل لیلی کی آواز پر جمع ہو گئے۔اس آواز سے زیادہ شان کے ساتھ۔۔۔۔۔خدا کے رسول نے تیرہ سو سال پہلے کہا تھا کہ لو كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ اَبْنَا فَارَ۔۔۔۔۔۔میں آج۔۔۔۔۔۔ان تمام افراد کو جو "رجل فارس" کی اولاد میں سے ہیں رسول کریم ملی یا اللہ کا یہ پیغام پہنچاتا ہوں۔۔۔۔۔خواہ میری اولاد ہو یا میرے بھائیوں کی۔وہ اپنے دلوں میں غور کر کے اپنی فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔۔۔۔آج