حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 720 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 720

670 اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ۱۹۴۷ء میں متحدہ ہندوستان تقسیم ہو گیا اور پاکستان معرض وجود میں آگیا اور جماعت احمدیہ کو اپنا مرکز متحدہ ہندوستان سے پاکستان منتقل کرنا پڑا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث کا یہ نظریہ تھا کہ جس قلعہ میں محمد رسول اللہ علی کے پناہ گزیں ہونے کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں ذکر ہے ۸۴ اس سے مراد پاکستان ہی ہے چنانچہ حضور نے اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر فرمایا:۔” پاکستان کی حفاظت کے لئے بھی دوست ضرور دعائیں کریں۔کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں جس قلعہ ہند میں نبی کریم میں نیم کے پناہ گزین ہونے کا ذکر ہے اس سے مراد پاکستان ہے۔سو دوست اپنی دعاؤں میں پاکستان کو خصوصیت کے ساتھ ضرور یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی حفاظت فرمائے اور ملائکہ کی افواج ہمیشہ ہر محاذ پر پاکستان کی مدد کریں ۰۸۵ حضور کے لائحہ عمل میں پاکستان کے استحکام کے لئے دعاؤں کی تحریک بطور خاص شامل حضور کے اتھ میں تھی ۱۹۷۱ء میں پاکستان اور بھارت کی جنگ سے قبل حضور نے جماعت کو اپنے خطبہ جمعه فرمودہ ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۱ء میں پاکستان کی کامیابی کے لئے دعا کی اور فرمایا :۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر قسم کی کامیابی عطا کرے اور دشمن ناکام و نامراد ہو " نیز فرمایا " احباب جماعت کو مالی قربانیوں اور دعاؤں کے ذریعہ اپنے ملک اور قوم کی خدمت کرنی چاہئے" ۳ دسمبر ۱۹۷۱ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔" ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے اپنا سب کچھ وقف کر دے" ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔اپنے ملک میں اتنا بڑا ظلم ہونے کے باوجود حضرت خلیفہ" ا