حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 719 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 719

669 اللہ تعالیٰ مستقبل میں جو کچھ کرنے والا ہے اس کا آپ لوگوں کو ابھی احساس نہیں ہے خدا تعالیٰ ہم پر بڑے فضل نازل کر رہا ہے ۸۲ ۱۹۸۱ء کے جلسہ سالانہ پر حضور نے اس تحریک پر زور دیتے ہوئے فرمایا:۔" دوسرے مجھے اللہ تعالیٰ نے تحفہ یہ دیا کہ عید گاہ کا تصور دیا۔عید گاہ ہماری انسٹی ٹیوشن ہے۔نبی کریم ملی امام مسجد نبوی میں عید ادا نہیں کرتے تھے بلکہ باہر نکلتے تھے۔اس تحریک کا بڑا فائدہ ہوا۔کینیڈا اور امریکہ نے اس طرف توجہ کی۔۔۔۔۔۔ان کو میں نے کہا جہاں جس سٹیٹ میں ایک احمدی بھی نہیں کل وہاں لاکھوں ہوں گے۔۔۔۔جو زمین آج آپ پانچ ہزار دس ہزار ڈالر کو لے سکتے ہیں اس وقت پانچ لاکھ ڈالر کو نہیں لے سکیں گے تو آنے والی نسلوں کے لئے زمینیں لو۔۔۔۔۔۔امریکہ میں اور پھر کینیڈا میں تو اس سے بھی زیادہ خالی زمینیں پڑی ہوئی ہیں۔اگر آدمی تلاش کرے محنت کرے توجہ دے تو بڑی ستی زمین مل جاتی ہے۔جہاں کچی سڑکیں جاتی ہیں زمین لے لو۔جہاں آج کچی سڑک ہے وہاں پانچ سال بعد پکی سڑک بن جائے گی۔پختہ سڑک (سے) پانچ میل دس میل پندرہ میل ہیں میل میں میں چالیس میل دور بھی لے لو تو کوئی حرج نہیں۔استحکام پاکستان کے لئے دعاؤں اور صدقات کی تحریک ۲۱ ستمبر ۱۹۰۳ء کا ذکر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ تعالٰی نے الهاماً بتایا تھا کہ ”رسول الله من دول العالم پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں" جس زمانے میں یہ الہام ہوا اس وقت پاکستان ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ متحدہ ہندوستان تھا۔