حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 706 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 706

656 حضور نے ایک مرتبہ ۱۹۷۴ء کے ابتلاء کے دوران احباب جماعت سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- انسانی نفس کا یہ خاصہ ہے کہ وہ بعض دفعہ مشکلات کے وقت گھبرا جاتا ہے اس لئے بعض چہروں پر کچھ گھبراہٹ اور پریشانی بھی نظر آتی تھی لیکن اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ دو تین سو یا چار پانچ سو احمدی احباب جن سے میں ان دنوں روزانہ اجتماعی ملاقات کیا کرتا تھا جب وہ میری مجلس سے اٹھتے تھے تو ان کے چہروں پر بشاشت کھیل رہی ہوتی تھی اور وہ چھلانگیں مارتے واپس جاتے تھے ۶۲؎ حضور کی یہ مسکرانے کی عادت ساری زندگی قائم رہی حتی کہ وفات کے وقت بھی یہی کیفیت تھی۔حضور کی ایک بہن صاحبزادی محترمہ امتہ الباسط صاحبہ لکھتی ہیں۔" میرے بھائی جان ہمیں چھوڑ کر اپنے سب سے پیارے آقا کے حضور حاضر ہو گئے۔۔۔۔۔میں بھائی جان کی وفات کے تقریباً ایک ہفتے بعد امریکہ جانے کے لئے روانہ ہو گئی۔تین دن لندن ٹھہری۔واپسی پر ایمسٹرڈم میں جہاز بدلنا تھا۔چار پانچ گھنٹے ایمسٹرڈم ٹھرنا تھا۔۔۔۔ایمسٹرڈم پہنچی تو ائیر پورٹ پر ایک عورت ملی۔۔۔۔یہ عورت مجھے کہنے لگی مجھے بتاؤ کہ جب وہ فوت ہوئے تھے تو مسکرا رہے تھے؟ میں نے کہا کہ ہاں وہ مسکرا رہے تھے۔کہنے لگی جب لوگوں نے مجھے ان کی وفات کا بتایا تھا تو مجھے یقین تھا کہ وہ مسکراتے ہوئے ہی رخصت ہوں گے کیونکہ میں نے ان کو ہمیشہ مسکراتے ہی دیکھا ہے " ۱۳؎ اسی طرح حضور کے غیر ملکی دوروں کے دوران لندن کے اخبار ٹائمز نے حضور کی شخصیت کے بارے میں لکھا کہ نرم دل ، دھیما مزاج اور بہت اثر کرنے والی شخصیت، ان کی طبیعت میں بہت مزاح ہے وہ اپنی بھر پور اور جاندار مسکراہٹ کے ساتھ مردوں کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں لیکن عورتوں سے نہیں