حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 707
657 " محبت سب کے لئے نفرت کسی سے بھی نہیں" کی عظیم الشان تحریک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " محبت و شفقت کا مجسمہ تھے۔مغربی جرمنی میں حضور نے ایک موقع پر اپنی زندگی کا مطمح نظر بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔” میں نے اپنی زندگی بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے وقف کر رکھی ہے۔میرے دل میں نوع انسان کی محبت اور ہمدردی کا ایک سمندر موجزن ہے۔اس لئے میں انہیں راہ فلاح کی طرف جو بلاشبہ اسلام کی راہ ہے بلا رہا ہوں۔یہاں بھی محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ یہی ہے کہ انسان انسان سے محبت کرے۔محبت کے نتیجہ میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ہمیشہ محبت ہی غالب آتی ہے اور تعصب کے لئے سدا سے شکست مقدر ہے " ۶۵۔حضور نے ۱۹۸۰ء میں چار براعظموں کا دورہ فرمایا اور محبت کا سفیر بن کر اپنی اس آفاقی تحریک کو دنیا کے کونے کونے میں بنفس نفیس پہنچایا۔حضور کی زندگی کا مسرور لمحہ ۹۔اکتوبر ۱۹۸۰ء کو آیا جب حضور نے سپین سے مسلمانوں کے اخراج کے سات سو پچاس سال بعد قرطبہ کے قریب پید رو آباد کے مقام پر پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔اس موقع پر بھی حضور نے یہی پیغام دیا۔فرمایا :۔ترین مسجد ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام انسان برابر ہیں خواہ وہ غریب ہوں یا امیر، پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ اسلام ہمیں باہم محبت اور الفت سے رہنے کی تعلیم دیتا ہے ہمیں انکساری سکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے وقت ہمیں مسلم اور غیر مسلم میں کسی قسم کی کوئی تمیز روا نہیں رکھنی چاہئے انسانیت کا یہی تقاضا ہے۔۔۔میرا پیغام صرف یہ ہے کہ