حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 680 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 680

630 فرمایا :- إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّفِنَتُ الْجِيَادُ فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ (ص: ۳۳٬۳۲) ترجمہ (اور یاد کر) جب اس کے سامنے شام کے وقت اعلیٰ درجہ کے گھوڑے پیش کئے گئے تو اس نے کہا میں دنیا کی اچھی چیزوں سے اس لئے محبت رکھتا ہوں کہ وہ مجھے میرے رب کی یاد دلاتی ہیں۔یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے اوٹ میں آگئے پھر آگے چل کر آتا ہے کہ رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ (ص: ۳۴) ترجمہ (اس نے کہا) ان کو میری طرف واپس لاؤ (جب وہ آئے) تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تھپکنے لگا یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھے ہر خوبصورت چیز اللہ کی یاد دلاتی ہے اور آپ نے ان گھوڑوں کو پیار کیا تو کیا یہ قابل اعتراض بات ہے کہ خدا کا نبی گھوڑوں کو پیار کرتا پھرے؟ ہرگز نہیں۔فرمایا معترض خود اسلام سے واقف نہیں ہے اس لئے بلا سوچے سمجھے اس کے دل میں وساوس پیدا ہو گئے " ۲۷ ” میں نے کچھ کتب جو گھوڑوں کے متعلق ہیں انگلستان سے منگوائی ہیں ان سب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آنحضرت اللہ نے ہی عرب گھوڑوں کی افزائش پر منتظم رنگ میں پہلی دفعہ توجہ فرمائی۔میں نے بھی آنحضرت میل و سلم کے ارشادات جو گھوڑوں کے متعلق ہیں جمع کرائے ہیں اور یہ ایک اچھی خاصی کتاب بن گئی ہے۔یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آنحضرت میں نے گھوڑوں کی پرورش کے متعلق اتنی بیش بہا معلومات ہم کو دی ہیں کہ کئی انگریزی کتب میں بھی اتنی تفصیل موجود نہیں ہے۔ایک کتاب میں