حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 679
629 خيل للرحمان گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ حضور نے 9 دسمبر ۱۹۷۲ء کو مرکز سلسلہ ربوہ میں گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ کا آغاز فرمایا۔اس کے لئے حضور نے خیل الرحمان کے نام سے ایک کمیٹی بنائی اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو اس کا صدر مقرر فرمایا۔خیل الرحمان گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ کے تحت ہونے والے مقابلوں میں حضور ” بنفس نفیس تشریف لاتے رہے اور مفید ہدایات دینے کے علاوہ انعامات تقسیم فرماتے۔حضور سب سے زیادہ گھوڑے لانے والے قائد ضلع کو اپنی طرف سے ایک ہزار روپے انعام دیا کرتے تھے۔حضور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ صد سالہ احمد یہ جوبلی کے جلسہ سالانہ تک جماعت کے افراد چالیس ہزار گھوڑے پالیں۔" ایک شخص نے یہ اعتراض کیا ہے کہ خلیفہ المسیح گھوڑوں کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور خود بھی گھوڑے پال رہے ہیں جبکہ گھوڑوں کی افزائش سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں " حضور نے فرمایا :۔" معترض نے مذہب اسلام کو سمجھے بغیر اعتراض کر دیا ہے۔حالانکہ آنحضرت مالی دیوی کی بہت سی احادیث صرف گھوڑوں کی افزائش ، ان کی عادات کے مطالعہ اور ان کی نگہداشت کے بارہ میں ہیں۔میں نے ان احادیث کو اکٹھا کرنا شروع کیا ہے اور اس مجموعہ کا نام "کتاب الخيل " رکھا ہے اور یہ ایک ضخیم کتاب بنتی جا رہی ہے۔آنحضرت میں یا اللہ نے فرمایا ہے کہ گھوڑے کی پیشانی میں تمہارے لئے قیامت تک برکت رکھی گئی ہے۔کیا ایک بابرکت چیز کی نگہداشت مذہب کا حصہ نہیں ہے؟ پھر قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ وہ بھی گھوڑوں سے پیار کرتے تھے اور اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی تلاش کرتے تھے چنانچہ فرمایا:۔