حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 641
590 ثانیہ میں اسلام کے جرنیل کی حیثیت میں اور حضرت محمد مصطفیٰ کے ایک محبوب روحانی فرزند کی حیثیت میں دنیا کی طرف بھیجا گیا۔جماعت احمدیہ کی پہلی صدی بھی اسلام کے جرنیل کی حیثیت سے مہدی محمود کی صدی ہے اور دوسری صدی بھی مہدی معہود کی صدی ہے جس میں اسلام غالب آئے گا اس کے بعد تیسری صدی میں تھوڑے بہت کام رہ جائیں گے اور وہ جیسا کہ انگریزی میں ایک فوجی محاورہ ہے Mopping Up Operation (یعنی جو چھوٹے موٹے کام رہ گئے۔ہوں ان کو کرنا) جب تیسری صدی والے آئیں گے وہ خود ہی ان کاموں کو سنبھالیں گے لیکن ہم جن کا تعلق پہلی اور دوسری صدی کے ساتھ ہے کیونکہ میرے سامنے اس وقت بھی جو چھوٹی سی جماعت کا ایک حصہ بیٹھا ہوا ہے ان میں سے بہت سے وہ ہوں گے بلکہ میرا خیال ہے یہاں بیٹھنے والوں کی اکثریت وہ ہو گی جو اسی طرح دلیری اور شجاعت اور فرماں برداری اور ایثار کے جذبہ کے ساتھ پہلی صدی کو پھلانگتے ہوئے دو سری صدی میں داخل ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنی قربانیاں پیش کرتے چلے جائیں گے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے کہ اسلام کے غلبہ کے لئے دوسروں کے دلوں میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وه وہ صدی جس میں عملاً اسلام دنیا میں غالب آنا شروع ہو جائے گا وہ شروع ہونے والی ہے اس سے پہلی (یعنی موجودہ صدی میں اسلام کے عظیم محل اور حضرت محمد ی کے عظیم قلعے کی عمارت کو بنانے کے لئے جن مضبوط بنیادوں کی ضرورت تھی وہ تیار ہوتی رہیں۔اب صدی ختم ہو رہی ہے قریباً سولہ سال باقی رہ گئے ہیں گویا پہلی صدی میں قربانیاں دینے کے لحاظ سے ایک آخری دھکا لگانا رہ گیا ہے اس کے لئے یہ سولہ سال سکیم بنائی گئی ہے تاکہ اسلام کے