حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 586
535 سے تو بات نہیں کی۔لیکن بعض دوستوں سے انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ یہ وعدہ کرتا تو ڈیڑھ دو سال میں وہ اپنا یہ وعدہ پورا نہ کر سکتا لیکن جماعت احمدیہ نے اسے پورا کر دیا۔بات یہ ہے کہ ہم اس مٹی سے بنے ہوئے ہیں جو دنیا کی نگاہ میں حقیر ہے لیکن خدا کے ہاتھ میں اس کا آلہ بن چکی ہے۔خدا تعالیٰ فضل کرتا ہے اور کامیابیاں عطا کرتا ہے ورنہ ہم کیا اور ہماری بساط کیا اور ہمارے مال کیا اور ہماری عقلیں اور فراست کیا نتیجے اور تدابیر اور کوشش کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ حضور نے تو ایک لاکھ پونڈ کا مطالبہ کیا تھا اور فرشتوں نے مخلصین جماعت کو کچھ اس طرح تحریک کی کہ انہوں نے اڑھائی لاکھ پونڈ یعنی ۵۳ لاکھ روپے کی رقم حضور کے قدموں میں لا ڈالی اور اس سے جو عظیم ا الشان کام ہوئے ان کی اس سرمائے سے کوئی نسبت ہی نہیں۔جس سرعت سے سکول اور ہسپتال اس سکیم کے تحت کھل گئے اس پر دنیا حیرت میں پڑ گئی حضور نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔" اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص کے نتیجہ میں انگلستان کی جماعت ہائے احمدیہ کو ایک بہت بڑی سعادت بخشی اور وہ یہ کہ ۱۹۷۰ء میں جب میں مغربی افریقہ کے ممالک کا دورہ کرتا ہوا گیمبیا پہنچا وہاں اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈالا کہ وقت آگیا ہے کہ افریقہ میں خدمت اور اصلاح و ارشاد کے کام میں تیزی پیدا کرنے کے لئے کم از کم ایک لاکھ پونڈ خرچ کرو چنانچہ سب سے پہلے اس کی تحریک میں نے افریقہ سے انگلستان پہنچ کر کی اور سب سے پہلے انگلستان کی جماعتوں کو اس ، تحریک پر لبیک کہنے کی سعادت علی۔۔۔۔ان دنوں گھانا کے شہر ٹیچی مان میں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری بڑی جماعت ہے ایک امریکن ریسرچ کر رہا تھا۔جب میں گیمبیا سے سیرالیون آیا تو اس وقت وہ