حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 585
534 تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سالوں میں قریباً ۵۳ لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں فالحمد للہ علی ذالک ۲۹ " جس والہانہ انداز میں جماعت کے افراد نے حضور کی اس تحریک پر لبیک کہا اور جس طرح اللہ تعالی کی تائید و نصرت شامل حال ہوئی اس کی ایک جھلک اس واقعہ سے محسوس کی جاتی ہے جو حضور نے ہی ایک مرتبہ بیان فرمایا کہ فرمایا :- " میں نے اس ریز رو فنڈ کے وعدہ جات کے سلسلہ میں احباب کو ایک بار یاد دہانی کرائی تھی جس کے جواب میں ابھی چار پانچ دن ہوئے لندن سے ایک احمدی دوست کا خط آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ میں نے کچھ رقم اپنی شادی کے لئے جمع کی ہوئی ہے۔اب آپ کا خط مجھے ملا ہے اور میں نے یہ رقم نصرت جہان ریز رو فنڈ میں دے دی ہے اور اپنی شادی ملتوی کر دی ہے۔پس اس قسم کی قربانیاں دینے والے لوگوں کے چندہ سے نصرت جہاں ریزرو فنڈ بنا ہے؟ ۰ نصرت جہاں کی سکیم ۱۹۷۰ء میں میں نے جاری کی تھی اور جلسہ سالانہ پر اس کا اعلان کیا تھا۔اس وقت اپنے حالات کو دیکھ کر یہ خیال تھا کہ سات سال میں یا بہت ہی جلد کر سکے تو پانچ سال میں میں اپنا وعدہ پورا کر سکوں گا۔میں نے دعائیں کیں۔جماعت نے دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔وہ منصوبہ جس کے متعلق ہمارے اندازے تھے کہ وہ سات سال میں مکمل ہو گا خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہو گیا اور اس کا بڑا اثر ہوا۔ایک امریکن مجھے نانا میں ملے وہ وہاں کے قبائلی Customs ان کی روایات اور رہن سہن کے طریقوں پر۔PH۔D کے لئے اپنا مقالہ لکھ رہے تھے۔وہ ڈیڑھ سال کے بعد یہاں آئے وہ کہنے لگے کہ میں صرف یہ دیکھنے آیا ہوں کہ یہ جماعت کس چیز سے بنی ہوئی ہے۔مجھ