حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 587
536 امریکن بھی غانا سے سیرالیون آیا ہوا تھا۔ہماری جماعت کے جلسہ میں وہ بھی موجود تھا۔پانچ سات سال کے اندر مغربی افریقہ کے ملکوں میں ہسپتال اور سکول کھولنے کی وعدے کا اسے بھی علم ہوا۔۱۹۷۲ء میں سفر کرتا کراتا وہ پاکستان آیا۔ربوہ آکر وہ مجھ سے ملا اور بعض اور دوستوں سے بھی اس کی ملاقات ہوئی، اس نے دوستوں سے دو سال کے اندر اندر ہسپتالوں اور سکولوں کے قیام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”اگر دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت بھی یہ وعدہ کرتی تو اتنی جلدی اسے وہ بھی پورا نہ کر سکتی" حضور نے فرمایا یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس نے ہمیں قلیل مدت میں وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اگر خدا کا فضل شامل حال نہ ہو تا تو ہم اتنا بڑا وعدہ پورا کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکتے ۳۲ نصرت جہاں ریزرو فنڈ کے ذریعے اللہ تعالی سے تجارت بعض لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" نصرت جہاں ریزرو فنڈ کو بھی فضل عمر فاؤنڈیشن کے ریزرو فنڈ کی طرح ریزرو میں رکھ کر اس کے منافع کو استعمال میں لائیں گے۔لیکن حضور نے اس ساری رقم کو مغربی افریقہ کے ممالک میں ان پس ماندہ قوموں کی محبت اور خدمت میں سکول اور ہسپتال کھولنے پر صرف کرنے کا فیصلہ فرمایا۔چنانچہ حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۷۵ء پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔" جلسہ سالانہ ۱۹۷۰ء کے موقع پر میں نے اس کی تحریک کی تھی۔شروع میں کم رقم کی تحریک کی تھی لیکن بعد میں میں نے کہا کہ حضرت مصلح موعود میں ایشین کی خلافت کے جتنے سال ہیں اتنے لاکھ روپیہ جمع کر دے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو توفیق دی اور جماعت نے اس میں ۵۳ لاکھ ۵۳ ہزار روپے ادا کئے۔۔دوست فضل عمر فاؤنڈیشن میں مختلف کمپنیوں کے حصص خرید کر اس