حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 460 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 460

405 تعمیر کے لئے زمین خریدی گئی اور مشن ہاؤس کا قیام عمل میں آیا۔سری نگر میں مسجد احمدیہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔حضور کے ارشاد پر محاسن قرآن پر دس قطعات کے سیٹ کی اشاعت کی گئی۔اس سال ۲۳ مئی کو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ " کا انتقال ہوا، آپ حضرت موعود علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کی پھوپھی اور خوشدامن بھی تھیں۔جماعت کے لئے آپ کا وجود شعائر اللہ کا درجہ رکھتا تھا، جس قسم کی زندگی آپ نے اور مسیح موعود علیہ السلام کی باقی اولاد نے گزاری جن میں حضرت خلیفہ ثالث” بھی بطور نافلہ موعود شامل ہیں۔یہی وہ زندگی تھی جس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود نے ایک مرتبہ فرمایا:۔" در حقیقت خوش اور مبارک زندگی وہی زندگی ہے جو الہی دین کی خدمت اور اشاعت میں بسر ہو۔ورنہ اگر انسان ساری دنیا کا بھی مالک ہو جائے اور اس قدر وسعت معاش ہو کہ تمام سامان عیش کے جو دنیا میں ایک شہنشاہ کے لئے ممکن ہیں وہ سب عیش اسے حاصل ہوں پھر بھی وہ عیش نہیں بلکہ ایک قسم عذاب کی ہے جس کی تلخیاں کبھی ساتھ ساتھ اور کبھی بعد میں کھلتی ہیں۔" ۱۹۷۷ء میں انگریزی ترجمہ قرآن کریم مع عربی متن کلکتہ (انڈیا) سے شائع ہوا۔چودھواں سال (۱۹۷۸ء) ۱۹۷۸ء میں جماعت احمدیہ نے مسیح علیہ السلام کی صلیب سے نجات کے موضوع پر لندن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا۔حضور" کا نفرنس میں شمولیت کے لئے لندن تشریف لے گئے۔اس کانفرنس کا وہاں بڑا چرچا ہو رہا تھا اور چرچ کی طرف سے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔انہوں نے دھمکیوں کے خطوط بھی لکھے ، لیکن حضور نے قرآنی ہدایت فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي (البقرہ ۱۵۱) کے تحت دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر کانفرنس میں شمولیت اختیار فرمائی اور اس میں معرکتہ الا را خطاب فرمایا۔