حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 461
406 دنیا کے بعض اور نامور مفکرین (جو مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھتے تھے) نے بھی اپنے تحقیقی مقالے پڑھے ، جس سے برطانوی چرچ میں ہلچل مچ گئی۔برٹش کونسل آف ) چرچز کی طرف سے ایک پریس نوٹ کے ذریعے تبادلہ خیالات کی دعوت دی گئی جسے حضور نے نہ صرف قبول فرمایا۔بلکہ اسی قسم کے تبادلہ خیالات کی رومن کیتھولک چرچ کو بھی دعوت دی اور لندن ، روم، مغربی افریقہ اور ایشیا کے دارالحکومتوں اور امریکہ میں بھی اس طرح کے اجلاس منعقد کرنے کی دعوت دی۔اس کانفرنس کی اتنی پلیٹی ہوئی کہ کروڑوں افراد تک احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا جن کی اندازاً تعداد ۱۵ کروڑ ہے۔اس دورے کے دوران حضور نے ڈنمارک، مغربی جرمنی سویڈن ، ناروے اور انگلستان کے دورے فرمائے اور ان ممالک کے مبلغین کو عیسائی دنیا میں وسیع پیمانے پر احمدیت پھیلانے کے بارے میں ہدایات دیں۔یورپ کے علاوہ مغربی افریقہ کے ممالک سے آئے ہوئے مبلغین کو بھی حضور نے و چکی ہدایات دیں۔اس سال سری لنکا کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔یورپ میں جو بیداری پیدا ہو تھی اس کے نتیجے میں اس سال مجلس انصار اللہ انگلستان کا پہلا سالانہ اجتماع ہوا۔اسی سال سالانہ اجتماع انصار اللہ مرکزیہ کے موقع پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو کثرت رائے سے صدر منتخب کرنے کی سفارش کی گئی۔حضور نے یہ سفارش منظور فرمالی۔اس سال حضور نے اسلام مذہبی آزادی اور آزادی ضمیر کا ضامن ہے" کے موضوع پر خطبات بھی ارشاد فرمائے۔اللہ کے فضل سے اسی سال گھانا، انڈونیشیا، مشرقی افریقہ اور نجی میں کل ۲۵ نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔مالا بار انڈیا میں مسجد احمدیہ کو سکون کا افتتاح عمل میں آیا ، احمد یہ مشن ہاؤس مدراس کا بھی اس سال افتتاح ہوا۔