حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 453
398 اور ر ظلم و و تشدد کے طوفان کے آگے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہو گئے اور اپنی دعاؤں اور اولوالعزمی سے اس کا رخ موڑ دیا۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعت احمدیہ کو آئینی اغراض کی خاطر غیر مسلم قرار دیا۔حضور کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا۔" وَسِعْ مَكَانِكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ " کہ تم اپنے مکان وسیع کرو۔میں ان استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہوں چنانچہ حضور کے پاس جو بھی مصیبت زدہ احمدی ملاقات کے لئے آتا حضور کو مل کر وہ تمام دکھ بھول جاتا اور تعلق باللہ اور توکل اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی بشارتوں کے نتیجہ میں حضور" کے چہرے پر جو بشاشت تھی وہ ملاقات کے بعد ان چہروں پر بھی منتقل ہو جاتی اور وہ ہنستے مسکراتے باہر جاتے اور جو قربانیاں اللہ تعالیٰ ان سے لے رہا تھا ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔پاکستان قومی اسمبلی کے اس فیصلے کی کئی مسلمان حکومتوں نے توثیق کی اور عالمی سطح پر اس مسئلہ کو پہنچانے کی کوشش کی ، اس موقعہ پر آپ حضرت مصلح موعود کو دی جانے والی اس خدائی بشارت کے مصداق ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ میں تجھے ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا۔» ۱۵ ۱۹۷۴ء کے مصائب سے اس طرح بچ نکلنا حضرت مسیح موعود کی اس دعا کا ثمرہ لگتا ہے جس میں حضور نے انصار دین کے لئے اپنے مولیٰ کے حضور جیسا کہ عرض کرتے ہیں۔کریما صر کرم کن بر کسے کو ناصر دیں است بلائے او بگرداں گر گئے آفت شود پیدا 24 اس طرح ۱۹۷۴ء سے جماعت احمدیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔حضور کو وسیع مكانك کا جو الہام ہوا تھا اس کے پیش نظر حضور نے جماعت کے تربیتی اور تبلیغی اور