حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 452 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 452

397 جماعت کے خلاف سراٹھا رہی تھی حضور نے فرمایا۔وو یہ ایک نہایت بڑا منصوبہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت برکت ڈالی ہے اور شروع میں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت رحمت کے ایسے آثار ظاہر ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی قربانی کو شرف قبولیت عطا فرمایا ہے اور فرشتے تاریں ہلا کر ہماری ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔tt امله اس سال بھی اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان مساجد اور مشن ہاؤسز میں وسعت پیدا ہوتی رہی۔اشاعت قرآن کریم کے سلسلہ میں دنیا کے بڑے بڑے ہوٹلوں اور لائبریریوں میں قرآن کریم رکھوائے گئے۔نیز دنیا کے سرکردہ افراد تک قرآن کریم پہنچائے گئے جن مختلف ممالک کے سربراہ سفرا وزراء یونیورسٹیوں کے چانسلر ، ڈاکٹر ، وکلاء اور میں دانشور شامل ہیں۔دسواں سال (۱۹۷۴ء) ۱۹۷۴ء کا سال ایک عظیم ابتلاء لے کر آیا۔اس وقت کی حکومت کی شہ پر پاکستان میں احمدیوں کے قتل و غارت اور لوٹ گھوٹ کا بازار گرم رہا۔معاندین نے احمدیوں کی مساجد قرآن کریم کے نسخے اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیوں کے گھر نذر آتش کئے ، کاروبار تباہ ہوئے، فیکٹریوں کو آگ لگائی گئی، کئی احمدی شہید کر دیئے گئے ، غرضیکہ احمدیوں کو بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث" کو پہلے تحقیقاتی ٹربیونل میں بیان دینے کے لئے لاہور طلب کیا گیا اور پھر جرح کے لئے پاکستان قومی اسمبلی میں اسلام آباد بلایا گیا۔کئی روز کی جرح کے دوران حضور نے جماعت احمدیہ کے عقائد کی خوب ترجمانی فرمائی۔جماعت کے لئے یہ بہت نازک وقت تھا۔حضور جماعت کی دلداری فرماتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل کئی کئی راتیں جاگ کر مناجات کرتے رہے اور مخالفت