حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 454 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 454

399 دیگر روحانی پروگراموں میں وسعت پیدا فرمائی اور حضور کی حسن تدبیر اور دعاؤں کے نتیجہ میں یہی ابتلاء احمدیت کی غیر معمولی وسعت کا پیش خیمہ بنا۔اسی سال حضور نے غیر ملکی مہمانوں کے لئے ربوہ میں کئی گیسٹ ہاؤس تعمیر کروانے شروع کئے۔چنانچہ فضل عمر فاؤنڈیشن، مجلس انصار اللہ مرکزیہ وغیرہ کے گیسٹ ہاؤسز کے سنگ بنیاد رکھے گئے۔بیرونی ممالک میں مساجد اور مشن ہاؤسز میں وسعت پیدا ہونے لگی، قرآن کریم کے تراجم میں کے کام کی رفتار بھی تیز ہو لگی۔جمہوریہ داھولی کے دارالحکومت پورٹورو میں پہلی احمد یہ مسجد کا افتتاح ہوا۔جزائر فجی کے دارالحکومت سودا میں مسجد فضل عمر " اور مشن ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ہندوستان میں دھومی اور بنگس میں مساجد کے سنگ بنیاد رکھے گئے۔اور ہندوستان میں صوبہ آندھرا پردیش میں مری پیڈا میں مسجد کا افتتاح ہوا۔اسی طرح گھانا میں فومینا میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر سورۃ مائدہ تا سورۃ توبہ شائع ہوئی۔اس سال یوگنڈا کی زبان میں ترجمہ و تفسیر قرآن کی اشاعت ہوئی حضور نے جلسہ سالانہ پر "حب الوطنی" کے موضوع پر افتتاحی خطاب اور اور ”ہمارے عقائد کے موضوع پر اختتامی خطاب فرمایا اور جماعت کے افراد میں ایمان و ایقان کی ایک نئی روح پھونک دی۔۱۹۷۴ء کا سال جماعت کے لئے عظیم ابتلاؤں کا سال تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے بے شمار افضال اور نشان ظاہر ہوئے مالی لحاظ سے بھی جماعت کے چندوں میں اضافہ ہوا۔پاکستان میں بھی ہزاروں گھرانے احمدی ہوئے چنانچہ حضور نے فرمایا:۔ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسی رو چلائی کہ وہاں (یعنی پاکستان میں) ہزاروں گھرانے احمدی ہو چکے ہیں اور جو احمدی ہوئے ہیں وہ دن بدن ایمان و اخلاص میں پختہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اور چندوں کے اضافے کے بارے میں فرمایا :۔