حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 322 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 322

307 (گوجرانوالہ ، چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ (لائل پور)، صاحبزادہ مرزا داؤد احمد صاحب اور مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری تھے۔علم انعامی کا ڈیزائن بھی وہی رکھا گیا البتہ اسے آسانی سے شفٹ کرنے کے لئے اس کے پول کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔۱۹۶۷ء سے علم انعامی اور سندات خوشنودی سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح کے ذریعے دیئے جانے کی روایات قائم ہوئی جس کا فیصلہ ۱۹۶۶ء کی شورٹی پر ہوا تھا۔تعليم القرآن حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب حافظ قرآن تھے اور قرآن کریم سے گھری محبت رکھتے تھے۔آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ جماعت کا کوئی فرد عورت یا مرد ایسا نہ ہو جسے قرآن شریف پڑھنا نہ آتا ہو۔اس مقصد کے حصول کے لئے آپ کی نظر انتخاب اس وقت انصار اللہ پر پڑی جب آپ اگرچہ خلیفۃ المسیح الثالث کے منصب پر فائز ہو چکے تھے لیکن ابھی انصار اللہ کی صدارت بھی آپ کے ہی پاس تھی آپ نے تعلیم القرآن کا ایک منصوبہ جماعت کے سامنے پیش کیا اور اس کا آغاز اس جگہ سے فرمایا جہاں آپ نے ۴ فروری ۱۹۲۶ء کو یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔آپ نے فرمایا:۔" کراچی کی جماعت کے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام میں مجلس انصاراللہ کے سپرد کرتا ہوں۔۔۔۔ضلع جھنگ میں جو جماعتیں ہیں ان کے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام مجلس انصار اللہ کے سپرد کیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی تفاصیل متعلقہ محکمے تیار کریں اور ایک ہفتہ کے اندر اندر مجھے پہنچائیں۔" پ نے ۴ اپریل ۱۹۶۹ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔"انصار اللہ کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے طوعی اور رضا کارانہ چندوں میں سست ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو چست ہو ہو جانے کی