حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 252
237 دن اپیل کی کہ یہ پاکستان کا پہلا کیمپ ہے۔انگریز کمانڈر انچیف کیا کہیں گے؟ بہرحال رات کے وقت بعض دوستوں کو ساتھ لے کر ایک خیمے میں گئے۔طلباء گانے گا رہے تھے ، قوالیاں ہو رہی تھیں اور نعرے لگ رہے تھے۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا ہماری اپیل پر لڑکے آمادہ ہو گئے اور پاکستان کے نام پر کچھ ایسی غیرت دکھائی کہ رات کا باقی وقت جاگ کر گزارا اور صفائی اور خیموں کی تزئین میں لگ گئے۔اگلے کمانڈر انچیف صاحب نے پہلے نمائشی جنگ دیکھی۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہوئی کہ ہمارے بہت سے طلباء کشمیر کے محاذ پر رضا کارانہ طور پر فرقان بٹالین میں خدمات سر انجام دے چکے تھے ان کو کمانڈر انچیف صاحب نے پہچان لیا۔ان کی دلچسپی بڑھی تو انہوں نے پوچھا کہ سارے کیمپ میں ایسے مجاہدین کتنے ہیں؟ پتہ چلا کہ سوائے تعلیم الاسلام کالج لاہور کے طلباء کے کسی نے کشمیر کے جہاد میں حصہ نہیں لیا تھا۔بہر حال تقسیم انعامات کی تقریب شروع ہونے والی تھی۔طلباء اور اساتذہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے۔مہمانوں کی آمد آمد تھی۔وزراء جج صاحبان رائس چانسلر صاحب، جنرل آفیسر کمانڈنگ لاہور گیریزن اور ان کے سینئر فسر معززین شہر آچکے تھے اور کمانڈر انچیف کے استقبال کے لئے اکٹھے کھڑے تھے کہ پنڈال میں جہاں ہر دو بٹالین بیٹھی ہوئی تھیں اسی ر افسر نے پھر کوئی گالی دے دی۔اس پر وہی پہلی سی TENSION پیدا ہوئی۔عین اسی وقت عاجز نے حضور کی ولزلے کار کو آتے دیکھا تو بڑھ کر استقبال کیا اور وہیں روک کر سارے حالات اور موجودہ کیفیت عرض کی۔حضور آگے تشریف لائے تو سب لوگ حضور سے ملے ان میں آفیسر مذکور بھی تھے۔حضور نے انگریزی زبان میں ان سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا اور یہ کہ شکر ہے کہ سٹرائیک ٹل گئی۔اس پر وہ آفیسر بولے کہ مجھے ان۔۔۔۔کی کیا پرواہ ہے؟ یہ فقرہ کافی بلند آواز سے انہوں نے