حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 253
238 اس کہا اور پھر اسے دو ہرایا۔تمام مہمان حضرات اور افسر یہ سن رہے تھے۔پہلے تو حضور بھی خاموش رہے اس انتظار میں کہ کوئی نہ کوئی مناسب آدمی ان کو ٹوکے۔جب تیسری مرتبہ بھی انہوں نے یہ فقرہ دہرایا تو حضور نے بڑے جلال سے بلند آواز سے فرمایا کہ آپ کو پرواہ نہیں لیکن ہمیں ان کی بڑی پرواہ ہے۔یہ قوم کے بچے ہیں ہم ان کو قسم کے اخلاق سیکھنے کے لئے یہاں نہیں بھیجتے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ابھی اپنی تعلیم الاسلام کالج کی پلیٹن کو کہو کہ واپس چلیں اور آئندہ سے یونیورسٹی آفیسرز ٹریننگ کور سے اپنا الحاق ختم کر دیا جائے۔حضور یہ فرما کر واپس کار کی طرف جانے لگے تو وہاں موجود لوگ جو پہلے منجمد ہو کر رہ گئے تھے حرکت میں آگئے اور کچھ نے حضور کا راستہ روک لیا اور کچھ افسروں نے اس افسر کو ڈانٹا اور اس نے بڑی لجاجت سے حضور سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار کیا۔مجھے یاد ہے کہ جب حضور نے یہ کلمات کہے تو میرے ایک غیر از جماعت دوست نے (جنہیں کچھ ضرورت سے زیادہ گالیوں کا نشانہ بننا پڑا تھا اور جو بعد میں کمشنر سرگودھا بھی رہے) فرط جذبات میں خوشی سے بے قرار ہو کر میرا تھ دبایا اور اتنے زور سے دبایا کہ کئی دن تک میرا ہاتھ درد کرتا رہا۔ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے جا رہے تھے کہ میاں صاحب کو ایسے لوگوں کی کیا پرواہ ہے۔میاں صاحب کو ایسے لوگوں کی کیا پرواہ ہے۔میاں صاحب کو ایسے لوگوں کی کیا پرواہ ہے۔محکمہ تعلیم کے ایک بہت بڑے افسر نے دوسرے مہمانوں سے کہا کہ میاں صاحب نے سب کی عزت رکھ لی۔اس واقعہ کا عجیب تر حصہ یہ ہے کہ کیمپ کے خاتمے پر جب بھی کوئی ٹرک روانہ ہوتا تو اس میں بیٹھنے والے " مرزا ناصر احمد۔زندہ باد" اور "پرنسپل ٹی آئی کالج۔زندہ باد" کے نعرے ضرور لگاتے اور - ای انداز سے یہ کیمپ ختم ہوا۔"" الله